.

اٹلانٹک کیلیے ایرانی جہاز کی روانگی جارحیت ہے، نیتن یاہو

پابندیوں میں نرمی کے باوجود ایرانی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے ایرانی بحریہ کی طرف سے جنگی جہاز کو حرکت میں لائے جانے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایران پر عاید پابندیاں نرم کرنے کا نتیجہ ہے جو سامنے آگیا ہے۔

واضح رہے بحر اٹلانٹک کے لیے جہاز روانہ کرنے کا اعلان ہفتے کے روز ایرانی بحریہ کے شمالی کمانڈر نے کیا تھا۔ ایرانی بحری کمانڈر نے اس جنگی بحری جہاز کی روانگی کو ایک پیغام دینے سے تعبیر کیا تھا۔

ایران کا یہ بحری جہاز جنوبی افریقہ کے قریبی سمندر سے بحر اٹلانٹک کی طرف روان دواں ہے۔ یہ بات ایرانی بحری کمانڈر افشین رضائی حداد کے حوالے سے ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دو بحری جہاز جن میں ایک جنگی جہاز ہے اور ایک ہیلی کاپٹر بردار 21 جنوری کو روانہ کیے گئے ہیں ۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ جہاز امریکی میری ٹائم بارڈر کے کس قدر قریب جا سکیں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کی طرف سے بحری جنگی جہاز کی روانگی کو کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔

بنجمن نیتن یاہو نے ایران پر یہ بھی الزام عاید کیا ہے کہ ''ایرانی بحریہ کی حرکت سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ایران نے اپنے تمام تر دعووں کے باوجود اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کی ہے۔

''یاد رہے ایران نے ستمبر 2012 میں ہی بحر اٹلانٹک میں اپنے بحری جہاز بھیجنے کی تیاری کرنے کا کہہ دیا تھا جبکہ دسمبر 2013 میں پینٹاگان نے کہا تھا کہ خلیج میں اپنی موجودگی میں کمی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔