.

ترکی سے صحافی کی بے دخلی پر انسانی حقوق کے کارکنان کی تنقید

انٹرنیٹ پر کنٹرول کے لیےنئے قانون کی پارلیمان سے منظوری کے خلاف مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ترکی میں آزادیِ اظہار رائے پر نئی قدغنوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے ذریعے پریس کی آزادی کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پیرس میں صحافیوں کے حقوق کے لیے قائم تنظیم صحافیان ماورائے سرحد اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ ترکی میں انٹرنیٹ پر نئے کنٹرول کے ذریعے پریس کی آزادی اور اظہاررائے کی آزادی کو نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی میں مقیم العربیہ نیوز کے کالم نگار اور ''ٹوڈے زمان'' کے آن لائن ایڈیٹر ماہر زینالوف کو وزیراعظم رجب طیب ایردوآن پر تنقید کی پاداش میں جمعہ کو بے دخل کردیا گیا تھا۔

زینالوف وسط ایشیائی ریاست آذر بائیجان سے تعلق رکھتے ہیں۔''ٹوڈے زمان'' کی رپورٹ کے مطابق ''زینالوف کو ان کی ترک اہلیہ کے ہمراہ پولیس کی معیت میں ہوائی اڈے پر لے جایا گیا اور وہ وہاں سے اپنے آبائی وطن روانہ ہوگئے ہیں''۔

ہیومن رائٹس واچ کے مشرقی یورپ اور سنٹرل ایشیا ڈیسک کے انچارج جان بحر نے صحافی کی ترکی بدری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی اچنبھے والی بات نہیں ہے کیونکہ ہم ترکی میں غیر ملکی صحافیوں اور تنقیدی صحافت کے خلاف عدم رواداری کے رویے کو ملاحظہ کررہے تھے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 1995ء کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی غیرملکی صحافی کو ترکی سے بے دخل کیا گیا ہے اور اس کے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔

زینالوف نے العربیہ نیوز پر پوسٹ کیے گئے اپنے تازہ کالم میں لکھا ہے کہ انھیں ایک چور کی طرح ترکی بدر کیا گیا تھا۔یہ ایک خطرناک رجحان ہے جس کے ذریعے میڈیا کی آزادی پر قدغنیں لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ترک پارلیمان کی منظور کردہ قدغنوں کے خلاف سیکڑوں افراد نے ہفتے کے روز احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔اب اگر ترک صدر عبداللہ گل اس نئے ضابطے کی منظوری دے دیتے ہیں تو ترک حکام عدالتی حکم کے بغیر بھی ویب سائٹس کو بند کر سکیں گے۔

زینالوف کانام ان غیرملکی صحافیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جن کے ترکی میں داخلے پر پابندی ہے۔انھوں نے ترکی کے اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کے خلاف ٹویٹر پر تحریریں پوسٹ کی تھیں۔

ان کے خلاف اس سے پہلے ترکی میں فوجداری الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔انھوں نے 25 دسمبر 2013ء کو ترکی میں بھونچال برپا کرنے والے کرپشن اسکینڈل کے بارے میں تحریریں پوسٹ کی تھیں۔ وزیراعظم دفتر کے رابطہ مرکز نے دعویٰ کیا ہے کہ زیانلوف نے ٹویٹر پر جو بیانات جاری کیے تھے،ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔