.

فرانس نے لیبیا میں فوجی مداخلت کا امکان مسترد کردیا

مارچ کے اوائل میں لیبی حکومت کی امداد پر غور کیا جائے گا:لوراں فابیئس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس نے لیبیا کے جنوب میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف مغرب کی براہ راست فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ نے سوموار کو ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا ہے کہ مغربی طاقتیں اس ایشو سے نمٹنے کے لیے لیبی حکومت کی مدد کے منصوبے پر غور کررہی ہیں۔البتہ انھوں نے واضح کیا ہے کہ مغرب کی جانب سے اب لیبیا میں کوئی فوجی مداخلت نہیں ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ ''مارچ کے اوائل میں روم میں ایک بین الاقوامی اجلاس ہوگا جس میں لیبیا کو مزید مدد مہیا کرنے پر غور کیا جائے گا کیونکہ یہ بات درست ہے کہ اس ملک کے جنوب میں دہشت گرد جمع ہورہے ہیں''۔لوراں فابئیس کا کہنا تھا کہ برطانیہ ،جرمنی ،امریکا ،مصر، الجزائراور تیونس لیبیا کو امداد مہیا کرنے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں شریک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہمیں ہرکہیں دہشت گردی سے نمٹنا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ برسرزمین ہمارے بندے موجود ہوں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ہمیں ان حکومتوں کی مدد کرنا ہوگی جو دہشت گردی کی بیخ کنی کرنا چاہتی ہیں۔لیبی حکومت کا بھی یہی معاملہ ہے''۔

نیجر نے گذشتہ ہفتے مغرب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ لیبیا میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف اپنے مشن کی تکمیل کرے۔ان جنگجوؤں نے 2011ء میں لیبیا کے سابق مطلق العنان حکمراں معمرقذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک کے جنوب میں اپنے ٹھکانے قائم کررکھے ہیں۔

القاعدہ اور دوسرے گروپوں سے وابستہ جنگجوؤں نے گذشتہ مہینوں کے دوران نیجر میں بھی حملے کیے ہیں اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کی ہیں۔نیجر معدنی دولت سے مالا مال ہے اور جنگ پسندی کی وجہ سے اس کی یورینیم کی پیدوار بند ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔

امریکا نے دسمبر2013ء میں دنیا بھر میں سراغرسانی سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ جنوبی لیبیا دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔اس میں جنوبی لیبیا میں ممکنہ فوجی مداخلت کا بھی عندیہ دیا گیا تھا۔