.

ٹی وی چینل کو تصویر بھیجنے پر اخوان کا حامی گرفتار

مصر میں ان دنوں الجزیرہ ٹی وی بطور خاص زیر عتاب ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پراسیکیوٹر نے ایک مصری کی گرفتاری کے بعد اس سے تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے اس پر الزام ہے کہ اس نے قطری ٹی وی چینل الجزیرہ کو تصویریں بھیجنے سے پہلے ان میں تبدیلیاں کیں، نیز اس کا اخوان المسلمون سے تعلق ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ گرفتار کیے گئے اس نئے کارکن کا تعلق حال ہی میں دہشت گرد تنظیم قرار دی گئی اخوان المسلمون ہے۔ واضح رہے مصری حکام نے حالیہ مہینوں کے دوران الجزیرہ سے وابستہ متعدد صحافیوں کو حراست میں لیا ہے۔

مصر میں اخوان المسلمون کے حمایت یافتہ منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد اخوان مسلسل کریک ڈاونز کی زد میں ہے۔ جبکہ اخوان بھی مسلسل احتجاج کی پالسی جاری رکھے ہوئے ہے۔

الجزیرہ کو تصویریں بھجوانے کے جرم میں گرفتار کیے جانے والے نئے ملزم کا نام حسن البنا کے طور پر سامنے آیا ہے۔

پراسیکیوشن نے اسے حراست میں لینے کے بعد اس سے تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے بارے میں عدالتی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ نوجوان پیشے کے اعتبار سے فوٹو گرافر نہیں ہے۔

قطری حکومت کے وسائل سے چلنے والا الجزیرہ ٹی وی مصری اخوان المسلمون کا حامی سمجھا جاتا ہے کہ اس نے مرسی کی برطرفی اور اخوان کیخلاف کریک ڈاون کے بعد مسلسل اخوان کو غیر معمولی کوریج دی ہے۔

الجزیرہ کو بھی مصر میں جولائی سے ہی بندش کا سامنا ہے جب سکیورٹی فورسز نے اس کے دفاتر پر ریڈ کی تھی۔ واضح رہے مصر میں پچھلے ہفتے پراسکیوٹر نے الجزیرہ کے ساتھ وابستہ 20 صحافیوں کے خلاف بھی مقدمہ عدالت میں دائر کیا ہے۔

پراسیکیوٹر نے اس موقع پر ان کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی اور یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ لوگ اخبار نویس ہیں۔ ان اخبار نویسوں کو 29 دسمبر کو قاہرہ کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا، اس سے پہلے ان کے دفاتر بند کیے گئے تھے۔

ان پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ '' ملزمان '' نے مصری سلامتی اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے اور یہ لوگ بغیر اجازت کے کام کر رہے تھے۔

خیال رہے ان حراست میں لیے گئے صحافیوں میں پیٹر گریستے، محمد عادل فہمی ، بہر محمود ایسے سینئیر صحافی شامل ہیں۔