.

یمن چھے علاقوں پر مشتمل وفاق بنے گا

صدرعبدربہ منصور ہادی کی سربراہی میں کمیٹی نے سفارشات کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کو سیاسی انتقال اقتدار کے منصوبے کے تحت چھے علاقوں پر مشتمل وفاق میں تبدیل کیا جائے گا اور اس ضمن میں صدارتی پینل نے مجوزہ سفارشات سے اتفاق کرلیا ہے۔

یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا کی رپورٹ کے مطابق صدر عبد ربہ منصور ہادی کی سربراہی میں کمیٹی نے سوموار کو اپنے اجلاس میں چھے علاقوں پر مشتمل وفاقی ریاست کے قیام کی حتمی منظوری دے دی ہے۔اس اجلاس میں یمن کی تمام بڑی جماعتوں کے نمائندے شریک تھے۔

یمنی صدر نے جنوری کے آخر میں یہ کمیٹی تشکیل دی تھی۔وہ اپنی سفارشات کو آئینی شکل دے گی اور یمن کے نئے مجوزہ آئین میں ان کو سمویا جائے گا۔نئے آئین پر ایک سال کے عرصہ میں ریفرینڈم کرایا جائے گا۔

واضح رہے کہ یمن کی سیاسی جماعتیں ملک کو دو یا چھے علاقوں میں تقسیم کرنے اور ان کا وفاق بنانے کے حوالے سے منقسم ہیں۔ان میں سے بعض یمن کو صرف دو حصوں شمالی اور جنوبی یمن میں تقسیم کرنے کے حق میں ہیں لیکن صنعا حکومت اس کی مخالفت کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس سے جنوبی یمن کی ملک سے علاحدگی کی راہ ہموار ہو گی اور وہ ایک مرتبہ پھر 1990ء کے عشرے کے اوائل کی طرح خود مختار ملک ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے۔

یمنی وفاق میں شامل کیے جانے والے چھےمجوزہ علاقوں میں چار شمال میں واقع ہیں اور وہ ازال ،سبا، جند اور تہامہ ہیں اور دو جنوبی یمن میں ہیں اور وہ عدن اور حضرموت ہیں۔ازال میں دارالحکومت صنعا کے علاوہ شیعہ حوثی باغیوں کی بالادستی والے صوبے صعدہ اور عمران وغیرہ شامل ہوں گے۔

پینل کی سفارشات کے مطابق ساحلی شہر عدن جنوبی یمن کا دارالحکومت ہوگا۔اس کی آزاد مقننہ اور خودمختار انتظامیہ ہوگی۔دارالحکومت صنعا کو وفاق کی علامت قراردیتے ہوئے غیر جانبدار شہر بنایا جائے گا اور یہاں کسی علاقائی اتھارٹی کی عمل داری نہیں ہوگی۔علاقائی تقسیم سے متعلق تصریحات کو آئین میں شامل کیا جائے گا اور اس ضمن میں خصوصی شقیں وضع کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ یمن کی مرکزی حکومت 2012ء میں سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کی عوامی بغاوت کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے ملک میں قیام امن کے لیے کوشاں ہے۔ملک کے جنوب مشرقی اور وسطی صوبوں میں شورش پسند قبائلیوں ،جنوب میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور شمال میں حوثی شیعہ باغیوں نے علم بغاوت بلند کررکھا ہے۔حوثی باغی یمن کے شمالی صوبوں صعدہ اور عمران میں خودمختاری کے لیے لڑرہے ہیں اور ان کی یمنی فورسز کے علاوہ مقامی اہل سنت قبائل سے بھی لڑائی ہورہی ہے۔