.

"العدل آرمی" کا ایرانی بارڈر پولیس کے اہلکار اغواء کرنے کا دعویٰ

اہلکاروں کو سرحدی قصبے نگوز سے اغوا کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سُنی اکثریتی مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم "جیش العدل" نے ایرانی بارڈ پولیس کے چار سینیئر افسراغواء کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

عسکریت پسند تنظیم کے ترجمان یحییٰ بلوچی نے ایک نامعلوم مقام سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ تنظیم کے جنگجوؤں نے سرحدی قصبے نگوز سے ایرانی بارڈر فورس کے چار اہلکار اغوا کر لیے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اغواء کی یہ کارروائی حال ہی میں جابہار شہر میں 15 بلوچ شہریوں کو پھانسی دیے جانے کا ردعمل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بلوچ عدل آرمی کے ترجمان نے کہا کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں اپنے زیر حراست ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ "میں یہ بات پوری دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایرانی حکومت کے وحشیانہ مظالم نے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔ ایران میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور انہیں چن چن کر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس لیے ہم اپنے سنی بھائیوں کے دفاع کے لیے اٹھے ہیں۔"

قبل ازیں جمعہ کو ایرانی میڈیا نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی تھی کی پاکستان کی سرحد سے متصل علاقے میں شرپسندوں نے ایرانی بارڈر پولیس کے پانچ اہلکار یرغمال بنا لیے تھے جنہیں چھڑانے کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی "ایسنا" کے مطابق ایرانی حکام نے پاکستان بارڈر پولیس سے بھی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں سیکیورٹی اہلکاروں کے یرغمال بنائے جانے پر بات کی ہے۔

خیال رہے کہ بلوچ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ایرانی بارڈر حکام کو یرغمال بنائے جانے کی خبر سے دو روز پیشتر بتایا گیا تھا کہ ایرانی حکومت نے صوبہ سیستان بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پندرہ بلوچ شہریوں کو پھانسی دے دی ہے۔