.

نجم سیٹھی پی سی بی کے چئیرمین مقرر،ذکاء اشرف برطرف

وزیر اعظم کےحکم پر بورڈ کے معاملات چلانے کے لیے 11 رکنی ایڈہاک کمیٹی مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نواز شریف نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چئیرمین ذکاء اشرف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اوران کی جگہ معروف صحافی نجم سیٹھی کو ایک مرتبہ پھرنیا عبوری چئیرمین مقرر کیا ہے۔

میاں نواز شریف نے ،جو پی سی بی کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں،بورڈ کے معاملات چلانے کے لیے نجم سیٹھی کی سربراہی میں گیارہ ارکان پر مشتمل ایک نگران کمیٹی مقرر کی ہے اور سابق چئیرمین پی سی بی شہریار خان اور سابق ٹیسٹ کرکٹروں اقبال قاسم اور ظہیرعباس کو بھی اس کمیٹی کا رکن مقرر کیا ہے۔

نجم سیٹھی کے بہ قول اس کمیٹی کو چارماہ میں بورڈ کا نیا آئین مرتب کرنے کی ذمے داری سونپی گئی ہے اور اس کو مکمل اختیارات حاصل ہوں گے۔اس کمیٹی کے رکن اور اسلام آباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر شکیل شیخ کا کہنا ہے کہ ذکاء اشرف کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سنگاپور میں منعقدہ حالیہ اجلاس میں پاکستان کا کیس موثر طور پر پیش نہ کرنے کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔

پاکستان نے گذشتہ ہفتے آئی سی سی کے نئے قواعد وضوابط کی منظوری کے وقت رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔نئے ضوابط کے تحت کرکٹ کی تین بڑی اقوام (بگ تھری) بھارت ،آسٹریلیا اور برطانیہ کو آئی سی سی کی گورننگ باڈی میں زیادہ اختیارات حاصل ہوگئے ہیں اور اس کی آمدن کا زیادہ حصہ بھی انہی تینوں ممالک کو ملے گا۔آئی سی سی کے دس مکمل ارکان میں سے آٹھ نے نئی تبدیلیوں کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ پاکستان کے علاوہ سری لنکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔

ذکاء اشرف کو گذشتہ ماہ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ نے چئیرمین کرکٹ بورڈ کے عہدے پر بحال کیا تھا۔انھیں گذشتہ سال چئیرمین پی سی بی کا شفاف انداز میں انتخاب نہ کرانے پر برطرف کردیا گیا تھا اور پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نے نجم سیٹھی کو بورڈ کا نگران چئیرمین مقرر کیا تھا۔

شکیل شیخ نے ذکاء اشرف کی ایک مرتبہ پھر برطرفی کو وزیراعظم کا پی سی بی کے حق میں ایک بہتر فیصلہ قرار دیا ہے۔انھوں نے الزام عاید کیا ہے کہ برطرف چئیرمین پی سی بی کے انتظامی اورعالمی امور بہتر انداز میں چلانے میں ناکام رہے ہیں۔

دوسری جانب ذکاء اشرف نے اپنی برطرفی کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ بدستور کرکٹ بورڈ کے چئیرمین ہیں،حکومتی فیصلے سے ان کی پوزیشن پر فرق نہیں پڑا اور وہ مشاورت کے بعد قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کریں گے۔

ذکاء اشرف آئی سی سی کے بورڈ کے اجلاس میں شرکت کے بعد سوموار کی صبح ہی سنگاپور سے وطن لوٹے تھے اور انھیں لاہور میں ایک ہوٹل میں منعقدہ تقریب کے دوران صحافیوں نے ان کی برطرفی کی اطلاع دی تھی۔

واضح رہے کہ چودھری ذکاء اشرف سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں۔انھیں پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں پی سی بی کا چئیرمین مقرر کیا گیا تھا اور بورڈ کے نئے آئین کی منظوری کے بعد انھیں اس عہدے کے لیے جمہوری طور پر منتخب بھی کرالیا گیا تھا لیکن میاں نواز شریف نے برسراقتدار آنے کے بعد انھیں برطرف کردیا تھا۔

وہ سیاسی طور پر پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں لیکن ان کے چچازاد بھائی اور بہنوئی چودھری جعفر اقبال کا شمار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہ نماؤں میں ہوتا ہے۔ان کی بہن عشرت اشرف مسلم لیگ خواتین ونگ کی سربراہ رہی ہیں۔ان کے ایک اور کزن شفقت محمود پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہ نما ہیں اور وہ لاہور سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئےتھے۔