حوثی باغی اور جنوبی گروپ یمن کو وفاق بنانے کے مخالف

جنوبی یمن کی مکمل خودمختاری کا مطالبہ،حوثی وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم پرمشوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن کے شمال میں خودمختاری کے لیے برسرپیکار حوثی شیعہ باغیوں اور جنوب کی مکمل علاحدگی کا مطالبہ کرنے والے ایک دھڑے نے ملک کو چھے علاقوں پر مشتمل وفاق بنانے کے منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔

شیعہ باغیوں کا کہنا ہے کہ جمہوریہ یمن کی چھے حصوں میں تقسیم اور اس کو فیڈریشن بنائے جانے کے باوجود دولت کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی جبکہ جنوبی دھڑے کا کہنا ہے کہ منصوبہ ان کی علاحدگی اور خودمختاری کے لیے امنگوں کو پورا نہیں کرتا ہے۔

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی سربراہی میں تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل کمیٹی نے سوموار کو اپنے اجلاس میں چھے علاقوں پر مشتمل وفاقی ریاست کے قیام کی حتمی منظوری دی ہے۔

یمنی صدر نے جنوری کے آخر میں یہ کمیٹی تشکیل دی تھی۔اب وہ اپنی سفارشات کو آئینی شکل دے گی۔یمن کے نئے مجوزہ آئین میں ان کو سمویا جائے گا اور اس نئے آئین پر ایک سال کے عرصہ میں ریفرینڈم کرایا جائے گا۔

حوثی شیعہ باغی گروپ انصاراللہ کے ترجمان محمد البخیتی نے کہا ہے کہ ہم نے یمن کو وفاق بنانے کا منصوبہ مسترد کردیا ہے کیونکہ اس سے ملک غریب اور دولت مند علاقوں میں منقسم ہو کر رہ جائے گا۔

اس منصوبے کے تحت انصاراللہ کے مضبوط گڑھ شمالی صوبے صعدہ کو ازال ریجن میں شامل کیا جائے گا۔اس میں صنعا ،عمران اور ضامر بھی شامل ہیں۔اس علاقے کے کوئی قدرتی وسائل نہیں اور سمندر تک بھی اس کی براہ راست رسائی نہیں ہے۔

بخیتی کا کہنا ہے کہ صعدہ کے حجہ کے ساحلی علاقے اور سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ واقع جوف کے ساتھ مضبوط ثقافتی ،سماجی اور جغرافیائی روابط استوار ہیں لیکن اس کو ازال میں شامل کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب جنوبی یمن کی خودمختاری کے لیے تحریک چلانے والی جماعت پیپلز کانگریس کے سربراہ محمد علی احمد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ہم ایسے فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ جنوب کے عوام کی امنگوں کے مطابق نہیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ جنوبی یمنی حق خودارادیت کا مطالبہ کررہے ہیں اور وہ ایک خودمختار ریاست چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن کی سیاسی جماعتیں ملک کو دو یا چھے علاقوں میں تقسیم کرنے اور ان کا وفاق بنانے کے حوالے سے منقسم ہیں۔ان میں سے بعض یمن کو صرف دو حصوں شمالی اور جنوبی یمن میں تقسیم کرنے کے حق میں ہیں لیکن صنعا حکومت اس کی مخالفت کررہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس سے جنوبی یمن کی ملک سے علاحدگی کی راہ ہموار ہو گی اور وہ ایک مرتبہ پھر 1990ء کے عشرے کے اوائل کی طرح خود مختار ملک ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے۔

یمنی وفاق میں شامل کیے جانے والے چھےمجوزہ علاقوں میں چار شمال میں واقع ہیں اور وہ ازال ،سبا، جند اور تہامہ ہیں۔جنوبی یمن کو دوحصوں عدن اور حضرموت میں تقسیم کیا جائے گا۔ازال میں دارالحکومت صنعا کے علاوہ شیعہ حوثی باغیوں کی بالادستی والے صوبے صعدہ اور عمران وغیرہ شامل ہوں گے۔

پینل کی سفارشات کے مطابق ساحلی شہر عدن جنوبی یمن کا دارالحکومت ہوگا۔اس کی آزاد مقننہ اور خودمختار انتظامیہ ہوگی۔دارالحکومت صنعا کو وفاق کی علامت قراردیتے ہوئے غیر جانبدار شہر بنایا جائے گا اور یہاں کسی علاقائی اتھارٹی کی عمل داری نہیں ہوگی۔علاقائی تقسیم سے متعلق تصریحات کو آئین میں شامل کیا جائے گا اور اس ضمن میں خصوصی شقیں وضع کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ یمن کی مرکزی حکومت 2012ء میں سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کی عوامی بغاوت کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے ملک میں قیام امن کے لیے کوشاں ہے۔ملک کے جنوب مشرقی اور وسطی صوبوں میں شورش پسند قبائلیوں ،جنوب میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور شمال میں حوثی شیعہ باغیوں نے علم بغاوت بلند کررکھا ہے۔حوثی باغی یمن کے شمالی صوبوں صعدہ اور عمران میں خودمختاری کے لیے ہتھیار بند ہیں اور ان کی یمنی فورسز کے علاوہ مقامی اہل سنت قبائل سے بھی لڑائی ہورہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں