.

اوباما کا ایران کے ساتھ رابطے میں تجارتی کمپنیوں کو انتباہ

فرانسیسی صدر کا فرانس کی کمپنیوں کے حوالے سے اظہار بے بسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے ایران کیخلاف پابندیاں نرم ہونے کے بعد تیزی سے ایران میں کاروبار کرنے میں دلچسپی لینے والی تجارتی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ '' تجارتی کمپنیاں ایسا اپنے رسک پر کریں گی۔''

امریکی صدر نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ اگر ان کمپنیوں نے بھی عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی اور پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ تجارتی معاملات آگے بڑھائے تو ایسی کمپنیوں کیخلاف امریکا یکبارگی سے کارروائِی کرے گا۔

صدر اوباما نے اس امر کا اظہار فرانس کے صدر اولیندے کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ واضح رہے فرانس نے حال ہی میں اپنے کاروباری لوگوں پر مشتمل وفود ایران بھجوائے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ تجارتی امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

امریکا اور فرانس ان چھ ممالک میں شامل ہیں جنہوں نومبر 2013 میں ایران کے ساتھ ابتدائی جوہری معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ امریکا فرانس کی طرف سے ایران میں اقتصادی دلچسپی پر اعتراض کر چکی ہے۔

امریکی صدر نے کہا '' میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ جو لوگ ایران کے ساتھ بزنس کی کوشش میں ہیں وہ اپنے اندیشوں کے خود ذمہ دار ہوں گے، کیونکہ ہم ایسے لوگوں پر ٹنوں انیٹوں کی صورت میں گریں گے۔ ''

اس موقع پر فرانس کے صدر نے کہا '' فرانس کی کارپوریشنز میرے کنٹرول میں نہیں ہیں۔'' تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر عاید پابندیوں کو اس کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی اور ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کا انتظار کیا جائے گا۔

واضح رہے فرانس کی بڑی کمپنیوں سے متعلق 116 فرانسیسی نمائندہ ڈیلیگیشن ابتدائی جوہری معاہدے کے بعد سے اب تک ایران جا چکے ہیں۔