.

بھارتی دوشیزہ مسلسل 25 سال سے ٹھوس غذاء کے بغیر زندہ

'مونجو دھڑو' کی یومیہ خوراک پانچ لیٹر دودھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں ایک پچیس سالہ دوشیزہ اپنی ولادت کے بعد سے اب تک پچیس سال سے ٹھوس غذاء کے بغیر زندہ ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی کے قریب 'سونی بیٹ' قصبے کی رہائشی مونجو دھڑو کو پیدائشی طور پر "اشالاسیا" نام کی ایک انوکھی بیماری لاحق ہے جس کے نتیجے میں وہ ٹھوس خوراک نہیں نگل سکتی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مونجو کے بارے میں تفصیلات برطانوی اخبار"ڈیلی میل" نے شائع کی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "اشالاسیا" نامی مرض کے شکار مریض کی خوراک کی نالی بند ہونے کے باعث کوئی ٹھوس چیز معدے میں نہیں جا سکتی ہے۔ مونجو کو یہ مرض پیدائشی طور پر لاحق ہے، البتہ اس کے خاندان اور چھ بہن بھائیوں میں سے کسی کو یہ بیماری لاحق نہیں ہے۔ اس انوکھی نوعیت کے مرض میں مبتلا مریض اگر ٹھوس غذا کھانے کی کوشش کرے تواسے خوراک معدے میں پہنچنے سے قبل ہی قے ہوجاتی ہے۔البتہ لیکوڈ اشیاء مثلا دودھ، چائے اور پانی وغیرہ معدے تک پہنچ جاتا ہے۔ برطانیہ میں ایسے مریضوں کی تعداد چھ ہزار بتائی جاتی ہے، جو ٹھوس خوراک کے بغیر زندگی گذار تے ہیں۔

طبی ماہرین کے خیال میں یہ بیماری زندگی کے کسی بھی دور میں لاحق ہوسکتی ہے۔ ماہرین نے اس کے علاج کے لیے کچھ طریقے اور ادویات تیار کی ہیں۔ البتہ اس کا کوئی موثرعلاج آج تک سامنے نہیں آسکا ہے۔

بھارتی دوشیزہ مونجو کی والدہ کا کہنا ہے کہ دو سال کی عمرمیں اس نے جب بیٹی کو چاول اور روٹی کھلانے کی کوشش کی تو وہ فورا قے کردیتی۔ شروع میں وہ بیماری کی نوعیت کا ادراک نہیں کرسکے۔ ڈاکٹر اسے مختلف امراض کی دوائیاں بھی دیتے رہے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اسے "اشالاسیا" کی بیماری لاحق ہے۔ مقامی سطح پر اس بیماری کا علاج کرانے کی کوشش کی گئی مگر سود مند ثابت نہیں ہوئی۔

مونجو کے والدین کو جب یقین ہوگیا کہ بیٹی ایک لاعلاج مرض کا شکار ہے۔ وہ ٹھوس غذاء نہیں کھا سکتی، صرف دودھ پر زندہ رہ سکتی ہے تو انہوں نے دودھ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گائے خرید لی ہے۔ دودھ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے وہ مسلسل گائے تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ مونجو روزانہ پانچ لیٹر دودھ بہ طور خوراک استعمال کرتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ پھلوں کے جوس اور چائے بھی پی سکتی ہے۔ البتہ ٹھوس خوراک استعمال نہیں کرسکتی۔

مونجو کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی صحت تندرست ہے، البتہ اس کا معدہ فطری طورپر ٹھوس غذا کا تقاضا کرتا ہے جس کے باعث اسے بھوک کی شکایت رہتی ہے تاہم وہ گھرکے تمام کام معمول کے مطابق کرتی ہے۔

بھارتی شہر جے پور کے ایک ڈاکٹر ادرش شارما کا کہنا ہے کہ مونجو کی خوراک کی نالی کا بند منہ سرجری کے ذریعے کھولا جاسکتا ہے تاہم اس کے والدین سرجری کے بھاری اخراجات اٹھانے کی استطاعت نہیں رکھتے کیونکہ علاج کے لیے اچھی خاصی رقم درکار ہے۔

شالاسیا کے مریض خوراک کی بند نالی کو کھولنے کے لیے مختلف نوعیت کی ادویہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سانس کی نالی کے ریشوں کو پرسکون رکھنے کے لیے"پوٹیکس" کے ٹیکے استعمال ہوتے ہیں اور سرجری کے ذریعے بھی علاج ممکن ہے، لیکن یہ بہت مہنگا طریقہ علاج ہے۔