.

بھارتی پارلیمنٹ میں چھریاں لہرائی گئیں، مرچوں کا اسپرے

سپیکر نے ہلڑ بازی کے مرتکب 17 ارکان کو معطل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہندوستانی پارلیمنٹ میں نئی ریاست قائم کرنے کے لیے ایک بل پیش ہونے پر شدید ہنگامہ اور شور شرابا دیکھا گیا۔ جمعرات کو ہونے والے سیشن میں ارکان اسمبلی بپھر گئے اور انہوں نے مائیکرو فون نکال پھینکا اور اسمبلی ہال میں کالی مرچ کا سپرے بھی کیا۔

حکمران جماعت کانگریس کی جانب سے ریاست آندھرا پردیش کے ایک حصے میں تلنگانا نامی نئی ریاست کے قیام کا متنازع بل پیش ہوا تو اپوزیشن ارکان آپے سے باہر ہو گئے اور شدید نعرے بازی کی۔

اس دوران ایوان زیریں مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا جہاں حزب اختلاف کے ارکان نے مائیکرو فون اکھاڑ پھینکا اور ایک نے مرچ کے سپرے کا بھی استعمال کیا۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق سپرے کی وجہ سے متعدد ارکان کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ نیوز ایجنسی کے مطابق اس دوران حکومتی ارکان اور بل کے مخالفین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ کچھ ارکان نے شور شرابے کے خاتمے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے جس کے بعد اجلاس کو ملتوی کر دیا گیا۔

وزیر برائے پارلیمانی امور کمال ناتھ نے شور شرابے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ ہمارے پارلیمانی اقدار پر بہت بڑا دھبہ ہے'۔ انہوں نے اجلاس میں خلل ڈالنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعد میں اسپیکر کی جانب سے ایوان میں قانونی دستاویزات پھاڑنے اور گلاس توڑنے والے 17 ارکان کو معطل کر دیا گیا۔

گزشتہ ہفتے کابینہ نے کافی عرصے تک جاری رہنے والے مہم کے بعد موجودہ ریاست اندھرا پردیش میں ایک اور ریاست تلنگانا کے قیام کا متنازع فیصلہ کیا تھا۔

ایک عرصے سے غربت اور پچھلی حکومتی کی عدم توجہی کا شکار ریاست آندھرا پردیش کے شمالی علاقے کے قبائلی گروپوں نے اس حصے کو تیلنگانا نامی نئی ریاست بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن ریاست کے قدرے مستحکم علاقوں نے اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سنگین معاشی بحران جنم لے گا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ کانگریس حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو پیش کرنے کا مقصد مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں اس علاقے سے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ منصوبے سے آندھرا پردیش میں شدید سیاسی جنگ کا آغاز ہو جائے گا۔ پارلیمنٹ کے باہر ریاست کے حامیوں اور پولیس کے درمیان بھی جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد متعدد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔

کانگریس نے آندھرا پردیش کی تقسیم کو سیاسی چال ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد ریاست میں ایک عرصے سے جاری بحران کا خاتمہ اور لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق کی بہتر طریقے سے فراہمی ہے۔

متنازعہ تلنگانہ بل پیش کئے جانے کے وقت لوک سبھا میں کچھ ارکان کی طرف سے ایوان میں سپرے چھڑکی جانے اور مائیک وغیرہ توڑے جانے کی ریکارڈ واقعہ کو 'شرمناک' اور 'کانگریس کا ڈرامہ' قرار دیتے ہوئے بی جے پی نے کہا کہ ایسی حالت میں حکومت کو اکاؤنٹ مطالبات منظور کرانے کے سیشن میں اور کچھ نہیں کرنا چاہیئے۔

لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے کہا کہ پارلیمنٹ میں آج جو کچھ ہوا ، وہ کانگریس کا ڈرامہ تھا. بی جے پی مستقبل میں حکومت سے کسی بھی مسئلے پر بحث نہیں کرے گی. پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں نامہ نگاروں سے کہا لوک سبھا میں آج جو کچھ ہوا، وہ کانگریس اور حکومت کے ساتھ پورے پارلیمنٹ کے لئے شرمناک ہے۔