.

بیرونی سرمایہ کاری، یورپ کی نظریں خلیجی اُمراء پر مرکوز

مالٹا فوری شہریت دینے کوت یار، برطانیہ نے ویزے کی شرط ختم کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ممالک کے صاحبِ ثروت لوگ غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی توجہ کا مرکز تو پہلے سے رہے ہیں لیکن اب یورپ جیسے ترقی یافتہ خطے کے ممالک بھی اپنے اقتصادی بحرانوں کے حل میں مدد کےلیے خلیجی سرمایہ داروں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یورپی یونین کے رُکن ملک مالٹا نے حال ہی میں ایک مسودہ قانون منظور کیا ہے جس میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے اپنے ہاں قیام سے متعلق سخت شرائط ختم کردی ہیں۔ اب کوئی بھی غیرملکی سرمایہ دار مالٹا میں فورا سرمایہ کاری شروع کرسکتا ہے۔ مالٹا حکومت کی نظریں اس وقت خلیجی ممالک کے سرمایہ کاروں پر مرکوز ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ نے بھی بعض خلیجی ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے اپنے ہاں سرمایہ کاری کے خواہاں افراد کے لیے ویزے کی شرط ختم کردی ہے جبکہ اسپین نے بھی اپنے غیرملکی بالخصوص خلیجی سرمایہ کاروں کے لیے زمین اور جائیدادوں کی خریداری کی شرائط نرم کرتے ہوئے اسے اور آسان بنا دیا ہے۔

مالٹا کی حکومت نے تو ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے قانون منظور کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی خلیجی یا غیر ملکی سرمایہ کار 06 لاکھ 50 ہزار یورو کی سرمایہ کرتے ہی مالٹا کا شہری بن جائے گا کیونکہ شہریت کے حصول کے لیے نئے قانون کے تحت طویل عرصے تک مالٹا میں قیام کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔

غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے مالٹا کی شہریت اپنے اندر ایک خاص کشش رکھتی ہے۔ مالٹا کی شہریت رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے یونین کے تمام ممبر ممالک کے اندر سفر، قیام اور سرمایہ کاری آسان ہوجائے گی۔ مبصرین کے خیال میں مقامی سرمائے کی قلت کے باعث مالٹا حکومت کو یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے۔ اس کے فوری اور مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کی تاریخ میں مالٹا کی حکومت کی طرف سے منظور کردہ قانون اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔ اس قانون کی منظوری سے اندرون ملک اور یورپی یونین کی جانب سے بھی مالٹا حکومت کو سخت تنقید کا بھی سامنا ہے۔

مالٹا میں مقیم عرب تجزیہ نگار عمار السعدی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مالٹا کی حکومت سمیت کئی دوسرے یورپی ممالک خلیجی اور عرب صاحب ثروت لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ لوگ اپنی معیشت کو مزید بہتر بنانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا سہارا لینا چاہتے ہیں اس لیےانہوں نے سرمایہ کاری کے لیے شرائط آسان کر دی ہیں۔ مالٹا کے دیکھا دیکھی برطانیہ نے بھی غیرملکی سرمایہ کاروں بالخصوص خلیج، روس اور چین کے دولت مندوں کے لیے ویزے کے شرط ختم کر دی ہے۔