.

اسرائیل، امریکا سے جنگ کے لیے تیار ہیں:ایرانی سپہ سالار

''دشمن نے متعدد مرتبہ جنگ کی تیاری کی مگر حملے کی جرأت نہ کرسکا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مُسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل حسن فیروز آبادی نے دھمکی دی ہے کہ ان کا ملک بہ یک وقت امریکا اور اسرائیل کےخلاف جنگ کے لیے تیار ہے۔انھوں نے متنازعہ جوہری پرگرام پر سمجھوتے میں ناکامی کی صورت میں تہران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی امریکی دھمکی کو"سیاسی دھوکا" قرار دیا ہے۔


ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جنرل فیروز آبادی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر دُشمن کی جانب سے خطے میں موجود ہمارے مفادات پرحملہ ہوا تو ہم اس کے تمام اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔ اگرحملہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے کیا گیا تو ہم انھیں (فوجی اڈوں) کو تباہ کردیں گے۔

خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تندوتیز بیانات کا تبادلہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ویانا میں چھے بڑی طاقتوں اور تہران کے درمیان حتمی جوہری سمجھوتے پر آیندہ ہفتے بات چیت کی تیاری ہو رہی ہے۔ پچھلے کچھ دِنوں سے امریکی حکومت کے عہدیداروں کی بدن بولی تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ تہران کے جوہری معاہدے پر مفاہمتی کوششیں ناکام رہیں تو طاقت کے استعمال کا آپشن نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔

نومبرمیں ایران اور گروپ چھے کے درمیان جنیوا میں طے پائے عبوری سمجھوتے کے بعد امریکا اور یورپی یونین نے ایران پرعاید اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی ہے۔تاہم یہ سمجھوتا چھے ماہ کی مدت کے لیے ہے اس لیے ایران مخالف ممالک نہایت احتیاط کے ساتھ قدم اٹھا رہے ہیں۔

ایرانی سپہ سالار کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادی پچھلے تین عشروں سے ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دیتے اور اس کی تیاریاں کرتے رہے ہیں لیکن وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران پر حملہ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس لیے انھوں نے جنگ کی تیاری کے بعد حملہ نہ کرنے ہی میں عافیت سمجھی ہے۔

قبل ازیں ایرانی اعتدال پسند صدر ڈاکٹرحسن روحانی بھی امریکی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دے چکے ہیں۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی 35 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی باتیں صرف امریکا کی جانب سے کی جا رہی ہیں، دنیا کا کوئی دوسرا ملک اس کے لیے قطعی طور پر تیار نہیں ہوگا۔ اس لیے میں امریکیوں سے کہوں گا کہ وہ اپنا نقطہ نظر تبدیل کریں،ایران کے بارے میں جو کچھ وہ خیال کر رہے ہیں،حقیقت اس کے برعکس ہے۔