.

'بشارالاسد کے تین لاکھ وفاداروں کو شام، ایران میں ٹریننگ دی گئی'

حزب اللہ کے 80 ہزار میزائل اسرائیل پر حملے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مجلس شوریٰ [ پارلیمنٹ] کے ایک رکن نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت بچانے کے لیے تین لاکھ شامی باشندوں کو جنگ کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ ان میں سے ڈیڑھ لاکھ کو ایران اور ڈیڑھ لاکھ کو شام میں جنگ کی ٹریننگ دی گئی۔ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ڈیڑھ لاکھ جنگجو ان کے علاوہ ہیں جنہیں لبنان کی سرزمین پر تربیت فراہم کی گئی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب خبر رساں ایجنسی"فارس" کے مطابق ایرانی رکن شوریٰ محمود نبویان نے ان خیالات کا اظہار تہران میں اسلامک طلباء یونین کے ایک اجتماع سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شام میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو شکست فاش سے دوچار کرنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ اس ضمن میں تین لاکھ شامی باشندوں کو شام اور ایران کی سرزمین میں ٹریننگ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی حزب اللہ کے پاس 80 ہزار میزائل ہیں جو ضرورت پڑتے ہی اسرائیل پر داغ دیے جائیں گے۔ محمود نبویان نے کہا کہ شام ایران کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاہم اگر تہران بشارالاسد کے مخالف ترکی جیسے ملک کی پالیسیوں پرخاموش ہے تو اس کی کوئی ٹھوس وجہ ہے۔ ترکی کے ایک بنک نے عالمی اقتصادی پابندیوں کے دوران ایران کی مالی معاونت کی ہے۔ اس لیے تہران انقرہ کی بشارالاسد مخالف پالیسی پرخاموش ہے۔

عالمی پابندیوں نے وزیر رلا دیے

ایرانی رُکن شوریٰ نے تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے تسلسل کےخلاف عائد عالمی اقتصادی پابندیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم انتہائی مشکل دور سے گذرے ہیں۔ سابق صدرمحمود احمدی نژاد کی حکومت میں شامل وزیر بند کمرہ اجلاسوں کے دوران اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے رو پڑتے تھے۔

نبویان نے عالمی پابندیوں کے منفی اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیرملکی پابندیوں کے نتیجے میں قدرتی تیل کی درآمدات وبرآمدات، بنکنگ اورٹکسٹائل سیکٹر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احمدی نژاد کی حکومت کے آخری ایام میں ان کی حکومت میں شامل وزراء عالمی پابندیوں کی وجہ سے رو پڑتے تھے۔ بند کمرہ اجلاسوں کے دوران اکثر یہ بات سننے کو ملتی کہ "اے! ارکان شوریٰ آپ حقٰیقت سے آگاہ ہونے کے باوجود دنیا کو سچ کیوں نہیں بتا دیتے۔ اپنے بیانات میں یہ کیوں کہتے ہو کہ عالمی اقتصادی پابندیوں کا ایران پرگہرے منفی اثرات پڑے ہیں۔"

محمود نبویان نے کہا کہ پچھلے سال ماہ رمضان میں ملک میں چکن کا سنگین بحران پیدا ہوا۔ چکن کی بھاری مقدار لے کرایک بحری جہاز ایران آ رہا تھا لیکن عالمی پابندیوں کے نتیجے میں ہم وہ سامان حاصل نہیں کرسکے۔ ایران کو یومیہ پچیس ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑتا۔ چھ ماہ تک وہ جہاز سمندر میں رہا لیکن ہم چکن حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں سنہ 2012ء کے بعد سے ہماری تمام بندرگاہوں کے قریب کوئی غیرملکی بحری جہاز نہیں آ سکتا تھا۔