.

روس کی شام سے متعلق نئی قرارداد کو ویٹو کرنے کی دھمکی

بشارالاسد کی حکومت کے خلاف حملے کی راہ ہموار کی جارہی ہے:سرگئی لاروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں انسانی امداد مہیا کرنے سے متعلق مجوزہ قرارداد کو ویٹو کرنے کی دھمکی دی ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ قرارداد شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔

سرگئی لاروف نے ماسکو میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ''قرارداد کا عمل آگے بڑھانے والوں نے ہمارے ساتھ جن آئیڈیاز کا تبادلہ خیال کیا ہے،وہ بالکل ناقابل قبول ہیں کیونکہ اس میں حکومت کے لیے ایک الٹی میٹم ہے کہ اگر اس نے تمام مسائل دو ہفتوں میں حل نہ کیے تو پھر ردعمل میں ازخود ہی پابندیاں متعارف کرادی جائیں گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''محرکین نے انسانی امداد پہنچانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے بجائے آسان حل یہ ڈھونڈا ہے کہ وہ ایک نئی قرارداد لے آئے ہیں''۔

شام سے متعلق مغربی ممالک کی تیار کردہ اس قرارداد کا مسودہ جمعرات کو روس کو موصول ہوا ہے اور اس کے عہدے داروں نے اس کو ملاحظہ کرنے کے بعد اس کی مخالفت میں بیانات جاری کیے ہیں۔لاروف نے اس سے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس قرارداد کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں جبکہ اقوام متحدہ میں متعین روسی سفیر ویٹالے چرکین نے بھی مجوزہ قرارداد کو مایوس کن قراردے کر مسترد کردیا تھا۔

روس کے نائب وزیرخارجہ گینناڈی گیٹلوف نے بدھ کو اس قرارداد کے مسودے پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ''اس کا مقصد مستقبل میں شامی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے زمین ہموار کرنا ہے''۔انھوں نے کہا کہ یہ موجودہ شکل میں ہمارے لیے ناقابل قبول ہے اور ہم اس کو منظور نہیں ہونے دیں گے۔

واضح رہے کہ روس اور چین شام میں گذشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران تین مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ قراردادوں کو ویٹو کرچکے ہیں اور اس طرح وہ شامی صدر بشارالاسد کو تحفظ مہیا کرتے چلے آرہے ہیں جس کی وجہ سے امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک اور ان کے خلیجی اتحادی شام کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی یا مداخلت میں ناکام رہے ہیں۔

مجوزہ قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر پندرہ روز میں خانہ جنگی سے متاثرہ شامیوں تک انسانی امداد بہم پہنچانے میں حائل رکاوٹیں دور نہیں کی جاتی ہیں تو اس کے ذمے دار اداروں اور افراد کے خلاف پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔البتہ اس میں شام میں براہ راست فوجی مداخلت سے متعلق اقوام متحدہ کے چارٹر کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔

مسودے میں شامی حکومت اور مسلح گروپوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کی مذمت کی گئی ہے اور شامی فورسز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شہروں اور قصبوں پر فضائی بمباری اور بلاامتیاز بموں ،راکٹوں اور دوسرے اسلحے کے استعمال کا سلسلہ بند کردیں۔اس میں شام میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے حملوں کی بھی مذمت کی گئی ہے اور شام سے تمام غیرملکی جنگجوؤں کے انخلاء پرزوردیا گیا ہے۔