.

صومالیہ:موغادیشو کے ہوائی اڈے پر کاربم دھماکا،6 ہلاک

الشباب نے اقوام متحدہ کے قافلے پر خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک اقوام متحدہ کے ایک قافلے پر خودکش کار بم حملے کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

صومالیہ میں القاعدہ سے وابستہ الشباب تنظیم نے اس خودکش کار بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔اطلاعات کے مطابق جمعرات کو ائیرپورٹ کمپلیکس کے داخلی راستے پر قائم ایک چیک پوائنٹ کے نزدیک بم دھماکا ہوا ہے۔اس کمپلیکس میں صومالیہ میں تعینات افریقی فوج ،اقوام متحدہ اور متعدد غیرملکی مشنوں کے دفاتر قائم ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق خودکش بمبار نے اقوام متحدہ کے قافلے کے نزدیک اپنی بارود سے بھری کار دھماکے سے اڑادی۔اس قافلے میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کا عملہ اور صومالی محافظ جارہے تھے۔ذرائع کے مطابق عالمی ادارے کے عملے کو بم حملے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا البتہ ان کے صومالی محافظوں میں سے بعض ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

صومالی پولیس کے ایک افسر سید محمد نے کاربم دھماکے میں چھے افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ان کے بہ قول مہلوکین میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے بعض کی حالت کی تشویش ناک ہے جس کے پیش نظر ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ایک عینی شاہد نے اے ایف پی ٹی وی کے جائے وقوعہ پر موجود ایک صحافی کو بتایا کہ دھماکے میں چودہ افراد مارے گئے ہیں۔اس سے ایک گاڑی اور قریب واقع متعدد دکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔

الشباب کے ترجمان شیخ عبدالعزیز ابو مصعب نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے مِں متعدد غیرملکی مارے گئے ہیں۔

صومالیہ میں تعینات افریقی ممالک کی فوج اور مقامی سکیورٹی فورسز سے برسرپیکار جنگجو تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ ''ان کے ایک بھائی نے یہ خودکش بم حملہ کیا ہے اور اس کا ہدف اقوام متحدہ کا قافلہ تھا۔اس میں متعدد درانداز ہلاک ہو گئے ہیں''۔

واضح رہے کہ ہوائی اڈے کو موغادیشو کے محفوظ ترین علاقوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔اس کے آس پاس سکیورٹی فورسز نے متعدد چیک پوائنٹس قائم کررکھے ہیں اور وہاں مسلح محافظوں کی بڑی نفری تعینات ہے۔