.

اہل تشیع کا سُنی مسلکی خواتین سے نکاح جائز نہیں: فتوی

صحابی رسول حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اہل تشیع کے ایک شدت پسند عالم دین نے اپنے ہم مسلکوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اہل سنت والجماعت مسلک کی پیروکار خواتین سے شادی سے گریز کریں کیونکہ ان کے بہ قول سنیوں کے ساتھ شادی بیاہ جائز نہیں ہے۔

فارسی زبان کے نیوز ویب پورٹل "عقیق" نے شیعہ عالم دین علامہ مصطفیٰ کرمی کا بیان نقل کیا گیا ہے جس میں علامہ کرمی نے تہران میں حسینیہ شمیرانات میں ایک مذہبی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حاضرین سے کہا کہ "ہو سکتا ہے کہ کوئی شیعہ، اہلِ سُنت مسلک کی پیروکار خاتون سے شادی کا خواہاں ہو۔ وہ لاعلمی میں ایسا کربھی سکتا ہے۔ اس لیے میں آپ لوگوں کو واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں کہ ہمارے [شیعہ] مسلک کے پیروکار سنی مسلک کی عورتوں سے شادی نہیں کرسکتے ہیں"۔

ایران میں اہل سنت مسلک کے نمائندہ اداروں کی جانب سے علامہ کرمی کے بیان حمایت یا مخالفت سامنے نہیں آئی ہے۔ البتہ اہل تشیع اپنی خواتین کی سنی مسلک کے مردوں کے ساتھ شادی سے منع کرتے آئے ہیں۔ تاہم سنی مسلک کی خواتین کے ساتھ اہل تشیع مرد کی شادی پر پابندی نہیں ہے۔ ایران میں سرکاری قانون میں بھی مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے مرد وزن کے درمیان بھی شادی پر پابندی نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دو ہفتے قبل ایران کے ایک دوسرے شدت پسند عالم دین علامہ محمد تقی مصباح یزدی نے اپنے ایک بیان میں اہل سنت والجماعت مسلک کےبارے میں انتہا پسندانہ انداز بیان اختیار کیا تھا۔ انہوں نے اہل سنت کی مذمت کرتے ہوئے جلیل القدر صحابی اور خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شان میں بھی گستاخی کی، تاہم بعد ازاں حکام کی جانب سے ان کی زبان بند کرا دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ ایران میں ہر سال "ہفتہ وحدت" منایا جاتا ہے۔ یہ ہفتہ منانے کا مقصد بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا بالخصوص اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان قربتیں پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ دوسری جانب شدت پسند شیعہ علماء عملا مسلمانوں کے مابین وحدت کی مساعی کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر بھی نہیں چھوڑتے۔

واضح رہے کہ ایران کی 75 ملین آبادی میں سے 20 سے 25 فی صد آبادی اہل سنت مسلک کے پیروکاروں پر مشتمل ہے۔ کردستان، بلوچستان، چولستان،[صحراء ترکمان]، تالیش اور خوزستان اہل سنت مسلک کے اکثریتی صوبے سمجھے جاتے ہیں۔