.

ذیابیطس کی روک تھام کے لیے موبائل ایپلی کیشن کا استعمال

مریضوں کی سہولت کی خاطر موبائل ایپلی کیشنز کی تیاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موبائل فونز کے جہاں کئی منفی استعمالات ہیں وہیں اس جدید ایجاد کی متعدد ایپلی کیشن کی مدد سے ذیابیطس کے مرض پر کنٹرول کرنے میں بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

طبی ماہرین نے پیش آئند پانچ برسوں کے دوران ذیابیطس کے مریضوں میں موبائل ایپلیکشن کے استعمال کو وسعت دینے کی سفارش کی ہے۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو ' کم خرچ بالا نشین' کے مصداق اس تیزی سے پھیلتے مرض پرصرف ہونے والا بھاری بجٹ بچایا جا سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دنیا بھرمیں اس وقت 382 ملین ذیابیطس کے رجسٹرڈ مریضوں میں سے صرف 1.2 فی صد افراد موبائل ایپلیکشن کی مدد لے رہے ہیں۔ اگلے پانچ یا چھ سال میں یہ تعداد کم سے کم 06 یا 7.8 فی صد تک لے جانے کی کوشش ہے۔

ریسرچ اینڈ کنسلٹنسی موبائل فون کی عالمی فرم"ریسرچ گائیڈنس" کے مطابق پہلی مرتبہ سنہ 2011ء میں ذیابیطس کی روک تھام کے لیے موبائل فون ایپلی کیشن کا استعمال عمل میں لایا گیا تھا، تاہم اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی میں جدت کی بھی ضرورت تھی۔ اس میدان میں ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے تاہم ابتدائی تحقیقات نے امید کی ایک نئی کرن روشن کردی ہے جس کی مدد سے موبائل اپیلی کیشن کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔