.

یمن: القاعدہ ارکان سمیت جیل سے 29 قیدی فرار

جنگجوؤں کے حملے اور جھڑپ میں سات پولیس اہلکار، تین مسلح افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں سنٹرل جیل پر مسلح جنگجوؤں نے حملہ کیا ہے اور وہ وہاں سے القاعدہ کے سترہ ارکان سمیت انتیس قیدیوں کو چھڑوا کر لے گئے ہیں۔جھڑپ میں سات پولیس اہلکار اور تین مسلح افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق دارالحکومت صنعا سے شمال میں واقع جیل کے نزدیک قبل ازیں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں جس کے بعد سکیورٹی فورسز کی مزید نفری روانہ کردی گئی ہے۔سنٹرل جیل میں قریباً پانچ ہزار افراد قید ہیں۔

یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا کی اطلاع کے مطابق جنگجوؤں کے ایک گروپ نے سنٹرل جیل پر دھاوا بولا تھا ۔ان کے حملے میں سات افراد مارے گئے اور وہ متعدد قیدیوں کو چھڑوا کر لے گئے ہیں۔

سبا نے اس حملے کی مزید تفصیل یہ بتائی ہے کہ اس کا آغاز سنٹرل جیل کے گیٹ پر کار بم دھماکے سے ہوا تھا۔ اس کے بعد مسلح جنگجوؤں کا جیل محافظوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔اس دوران متعدد قیدی جیل سے فرار ہوجانے میں کامیاب ہوگئے۔

واضح رہے کہ اکتوبر2013ء میں صنعا کی ایک اور جیل میں سکیورٹی فورسز نے القاعدہ کے کم سے کم تین سو قیدیوں کے فرار کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔ان قیدیوں نے جیل سے بھاگنے کے لیے بغاوت کردی تھی لیکن یمنی فورسز نے اس بغاوت کو فرو کردیا تھا۔اس دوران لڑائی میں متعدد قیدی اور محافظ زخمی ہوگئے تھے لیکن ان میں کوِئی ہلاک نہیں ہوا تھا۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے سربراہ ناصر الوحیشی نے اگست 2013ء میں دھمکی دی تھی کہ وہ جیلوں میں قید اپنے ساتھیوں کو چھڑوا لیں گے۔ناصرالوحیشی بہ ذات خود فروری 2006ء میں صنعا کی اسی جیل سے بائیس دیگر قیدیوں سمیت فرار ہوگئے تھے اور ایک سال کے بعد انھیں جزیرہ نما العرب میں القاعدہ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا القاعدہ کی اس تنظیم کو سب سے خطرناک جنگجو گروپ قراردیتا ہے۔القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں نے 2011ء میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مرکزی حکومت کی کمزوری سے خوب فائدہ اٹھایا تھا اور جنوبی صوبے ابین میں اپنی عمل داری قائم کرلی تھی۔تاہم بعد میں یمنی سکیورٹی فورسز نے القاعدہ کو وہاں سے نکال باہر کیا تھا۔