.

سترہ سالہ سعودی دوشیزہ کا پانچ کروڑ ریال کا عطیہ

رقم والد کی جانب سے ترکے میں ملی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک سترہ سالہ لڑکی نے اپنے والد کے ترکے میں ملنے والی رقم کا ایک بڑا حصہ خیرات کر کے ایک منفرد اور روشن مثال قائم کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پچاس ملین ریال کی بھاری رقم عطیہ کرنے والی اس نیک بخت دوشیزہ کا کہنا ہے کہ یہ اسے والد سے ملنے والے ترکے کی مجموعی رقم کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ وہ مزید بھی فلاحی کاموں کے لیے عطیات فراہم کرتی رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق سعودی دوشیزہ نے ریاض شہر کی جنرل کورٹ میں اپنی عطیے کی رجسٹریشن کرائی۔ اس نے بتایا کہ اس کے عطیات سے مساجد کی تعمیر، ناحق جیلوں میں ڈالے گئے قیدیوں کی رہائی اور دیگر حاجت مندوں کی ضروریات پوری کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔ تاہم اس نے اپنا نام ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی دوشیزہ کا کہنا تھا کہ اس نے یہ فیصلہ کسی دباؤ پر نہیں کیا ہے بلکہ وہ اپنی مرضی سے اپنی دولت کو صدقہ جاریہ کے کاموں پرصرف کرنا چاہتی ہے جو اس کی دنیاوی اور اخروی دونوں زندگیوں میں کام آئے۔

سعودی لڑکی نے بتایا کہ جب اس نے پچاس ملین ریال کی رقم عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ سن کر اس کی والدہ اور بھائیوں کو بھی خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا میں اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہی ہوں۔