.

عرب بہاریہ پر برطانوی رئیل اسٹیٹ کاروبار کی چاندی

غیر خلیجی عرب سرمایہ کاروں نے لندن ڈیرے جما لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک میں جاری سیاسی شورش کے باعث بعض یورپی ملکوں بالخصوص برطانیہ میں رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کی بھی چاندی ہو گئی ہے۔ عرب بہاریہ کے مفروروں اورغیر خلیجی عرب شہریوں نے برطانیہ میں غیر معمولی سرمایہ کاری کرنے اور رہائش اختیار کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں برطانیہ میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ ایک برس کے دوران برطانوی دارالحکومت لندن کو مصری اور لیبی سرمایہ کاروں نے اپنی دوسری جنت کے طور پر اپنانا شروع کیا ہے۔ لندن کے پُرسکون سیاسی ماحول اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار فضاء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مصر، لیبیا اور تیونس سمیت کئی دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے صاحب ثروت لوگوں نے اپنے ٹھکانے لندن میں قائم کرنا شروع کیے ہیں۔ مصری سرمایہ کاروں نے سب سے زیادہ "ہوٹلنگ" کے شعبے میں سرمایہ کاری شروع کر رکھی ہے۔ لندن میں عموما اوسط درجے کے ہوٹل کی خریداری کے لیے 13 لاکھ ڈالر کے ارد گرد بھاؤ تاؤ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سنہ 2013ء کے دوران پچھلے برسوں کے دوران مصری سرمایہ کاروں کی آمد میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ برطانوی حکومت بھی خوش ہے کیونکہ اسے کسی مہم کے بغیر اتنی بڑی تعداد میں سرمایہ کار ہاتھ آ گئے ہیں۔

لندن اور برطانیہ کے دوسرے شہروں میں غیرخلیجی عرب ممالک کے باشندوں کی جانب سے بہ کثرت ہونے والی سرمایہ کاری نے وہاں پر رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی ہیں۔ مملکت میں رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں کو قرض فراہم کرنے والے"ہولی فیکس" بنک کا کہنا ہے کہ رواں سال [2014ء] کے صرف ڈیڑھ ماہ میں لندن میں مکانوں اور دیگر املاک کی قیمتوں میں چار سے آٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ میں مقیم ایک عرب رئیل اسٹیٹ کے مشیر مصطفیٰ الموسوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ لندن اور دوسرے شہروں میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں اضافہ یک دم نہیں ہو گیا بلکہ یہ عرب ممالک سے آنے والے سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسلسل ہو رہا ہے۔ البتہ 2014ء کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ میں لندن میں رہائیشی فلیٹس کی قیمتیں 20 فی صد تک بڑھ چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2013ء کے اختتام پر ایک غیر ملکی سرمایہ کار نے مغربی لندن میں ایک کمپاؤنڈ چھ لاکھ 50 ہزار آسٹریلوی پاؤنڈ میں خرید کیا اور اسے محض چند دن بعد 02 لاکھ پاؤنڈ منافع کے ساتھ 08 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈز میں فروخت کردیا۔