.

کاراکس نے تین امریکی سفارتکار بیدخل کر دیے

شاویز کے جانشین نکولاس مادورو انتہائی مشکلات میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وینزویلا حکومت نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں ہونے والے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کی پشت پناہی کر رہا ہے جبکہ مظاہرین نے آج بروز پیر بھی ایک تازہ احتجاجی مارچ کی کال جاری کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے وینزویلا سے موصولہ رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر نکولاس مادورو نے کاراکس میں تعینات تین امریکی سفارتکاروں کو یہ کہتے ہوئے ملک سے نکل جانے کا حکم جاری کر دیا ہے کہ وہ حکومت مخالف مظاہروں کو ہوا دینے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ بیدخل کیے جانے والے ان سفارتکاروں کا نام خفیہ رکھا گیا ہے۔

صدر مادورو نے اتوار کی شام اپنے نشریاتی خطاب میں واشنگٹن حکومت پر وینزویلا میں افراتفری پھیلانے کا الزام دھرتے ہوئے کہا، ’’جاؤ، واشنگٹن میں جا کر سازشیں کرو۔‘‘ وینزویلا حکام کے مطابق ان تینوں امریکی سفارتکاروں نے ویزا پروگرام کی آڑ میں یونیورسٹی کے اب طلباء سے ملاقاتیں کی ہیں، جو حکومت مخالف مظاہروں کا اہتمام کر رہے ہیں۔

وینزویلا میں مظاہرین نے صدر مادورو کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ گزشتہ روز دارالحکومت میں منعقد ہوئے ایک ایسی ہی احتجاجی ریلی میں تین ہزار افراد نے شرکت کی۔

ادھر مفرور اپوزیشن لیڈر لیوپولڈو لوپیز نے منگل کے دن ایک بڑے مظاہرے کی کال جاری کر دی ہے۔ صدر مادورو کا کہنا ہے کہ ملک میں بھڑکنے والے تشدد کے ذمہ دار لوپیز ہیں، اسی لیے ان کا وارنٹ گرفتاری کیا جا چکا ہے۔

پاپولر وِل پارٹی کے رہنما لوپیز نے کہا ہے کہ وہ گرفتاری سے نہیں ڈرتے اور اٹھارہ فروری کو منعقد کیے جانے مطاہرے میں وہ شریک ضرور ہوں گے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پیغام میں مزید کہا، ’’اگر کسی نے مجھے غیر قانونی طور پر حراست میں لینے کا پروگرام بنایا ہے، تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مجھے کوئی خوف نہیں ہے۔‘‘ لوپیز کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔

ادھر امریکا نے لوپیز کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے پر تحفطات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم وننزویلا کی وزرات انصاف نے ایسے امریکی مطالبات مسترد کر دیے ہیں کہ وہ لوپیز وارنٹ واپس لے لے۔

ایک برس قبل اوگو شاویز کی موت کے بعد اقتدار میں آنے والے نکولاس مادورو کو اس وقت سخت سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک کی اقتصادی ترقی میں حائل مسائل، افراط زر، اشیائے ضروریات کی قلت، مہنگائی اور پرتشدد جرائم کی شرح میں اضافے کی وجہ سے نوجوان طبقہ بھی سڑکوں پر نکل آیا ہے۔ حالیہ مظاہرے مادورو کی سوشلسٹ حکومت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیے جا رہے ہیں۔