.

یمن:آئل ریفائنری پر القاعدہ کے حملے کی سازش ناکام

عدن میں 6 کارسواروں کی گرفتاری کے بعد القاعدہ کے لیڈروں سمیت 27 پکڑے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی سکیورٹی فورسز نے جنوبی شہر عدن میں ایک آئل ریفائنری پر القاعدہ کے حملے کی سازش ناکام بنا دی ہے اور اس کارروائی میں ملوث مشتبہ ستائیس جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

عدن پولیس کے ڈپٹی کمشنر نجیب المغلاس نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ پولیس اور فوجیوں نے پہلے ریفائنری کی جانب جانے والے چھے مشتبہ کارسواروں کو گرفتار کیا ہے۔اس کے بعد ان کی نشاندہی پر مزید اکیس افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یمنی وزارت دفاع کی ویب سائٹ 26 ستمبر ڈاٹ نیٹ کی اطلاع کے مطابق پولیس کمشنر نے بتایا کہ گرفتار دہشت گردوں میں القاعدہ نیٹ ورک کے بعض لیڈر بھی شامل ہیں۔تاہم انھوں نے مبینہ حملے کے بارے میں مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے اور صرف یہ کہا ہے کہ اس کارروائی کی ابھی منصوبہ بندی کی جارہی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا ہے۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سےوابستہ جنگجوؤں نے گذشتہ مہینوں کے دوران یمن کے جنوبی صوبوں میں تیل کی تنصیبات ،سکیورٹی فورسز اور غیر ملکیوں پر بیسیوں حملے کیے ہیں۔ امریکا القاعدہ کی اس تنظیم کو سب سے خطرناک جنگجو گروپ قراردیتا ہے۔

اس تنظیم کے جنگجوؤں نے 2011ء میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مرکزی حکومت کی اقتدار پر گرفت ڈھیلی پڑںے کے بعد جنوبی صوبے ابین میں اپنی عمل داری قائم کرلی تھی۔تاہم بعد میں یمنی سکیورٹی فورسز نے القاعدہ کوابین اور دوسرے جنوبی علاقوں سے نکال باہر کیا تھا لیکن سکیورٹی فورسز اور امریکی ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کے باوجود القاعدہ کے جنگجوؤں نے یمنی تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔