.

طلباء انٹرنیٹ کے غلام نہ بنیں: اردوگان کی نصیحت

"انٹرنیٹ غلط افراد کے ہاتھ میں بہت بڑا خطرہ ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوگان نے طلباء میں مفت ٹیبلٹ کمپیوٹر تقسیم کرتے ہوئے نوجوانوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے غلام نہ بنیں۔

ترک وزیراعظم نے اس موقع پر انٹرنیٹ پر مزید حکومتی کنٹرول کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ ان کے اس فیصلے کو کافی حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اردوگان نے انقرہ میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا، " انٹرنیٹ ایک بہت طاقتور آلہ ہے مگر یہ خطرناک لوگوں کے ہاتھ میں سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ انٹرنیٹ کا غلام مت بن جانا۔"

ترکی کی پارلیمنٹ نے اس ماہ کے شروع میں انٹرنیٹ پر نئی پابندیاں لگانے کی منظوری دے کر اندرون اور بیرون ملک احتجاج کا ایک نیا طوفان برپا کردیا ہے۔ ان نئی پابندیوں کے مطابق ترک حکام کسی بھی ویب پیج کو ہتک آمیز اور پرائیویسی میں مداخلت قرار دے کر بلاک کرسکتے ہیں۔

اردوگان اور ان کی جماعت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون اختلاف رائے کا گلا گھونٹنے کی ایک کوشش ہے۔ اس قانون کی منظوری نے بھی کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے کیوںکہ اس وقت اردوگان ایک انتہائی ہائی لیول کرپشن کی تفتیش کا سامنا کررہے ہیں جن میں ان کے اہم اتحادی مبینہ طور پر شامل کار رہے ہیں اور اس کیس کی کچھ تفصیلات انٹرنیٹ پر دنیا کے سامنے آگئی تھیں۔

لیکن اردوگان نے انٹرنیٹ پر پابندیوں کے الزامات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر لگائی جانیوالی پابندیاں نوجوان افراد کی پرائیویسی کے تحفظ کے لئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ "ہمارا مقصد کسی کی آزادی پر قدغن لگانا نہیں ہے۔ بلکہ اس کے برعکس ہم اپنی عوام کو بلیک میلروں، غاصبوں اور بدمعاشوں سے تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔"