.

جمہوریت کی حمایت:جان کیری کی اچانک دورے پر تیونس آمد

تیونسی قیادت سے ملاقات میں جمہوری انتقال اقتدار پر تبادلہ خیال کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری منگل کو غیر علانیہ دورے پر تیونس پہنچے ہیں۔ان کی آمد کا مقصد شمالی افریقہ کے اس ملک کی نوزائیدہ جمہوریت کے لیے حمایت کا اظہار کرنا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین ساکی نے جان کیری کے دورے سے قبل بتایا ہے کہ وہ تیونس کے سینیر عہدے داروں سے ملاقات کریں گے اوران سے جمہوری انتقال اقتدار کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔

ترجمان کے مطابق امریکی وزیرخارجہ تیونس کے عبوری وزیراعظم مہدی جمعہ ،صدر منصف مرزوقی سے ملک کی سیاسی صورت حال پر بات چیت کریں گے اور ان سے ملاقات میں امریکا کی جانب سے تیونسی عوام اور حکومت کے لیے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کریں گے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر عہدے دار کا کہنا ہے: ''تیونس کی منفرد اور مثبت بات یہ ہے کہ وہاں حزب مخالف سے رابطہ کیا گیا ہے اور ان کو آئین سازی اور حکومت سازی کے عمل میں شریک کیا گیا ہے اوراس ملک میں اقتدار کو ہاتھ میں لینے اور اس پر برقرار رہنے پر اصرار نہیں کیا گیا ہے''۔

ان کا اشارہ تیونس میں گذشتہ ماہ نئے آئین کی منظوری اور وزیراعظم مہدی جمعہ کی قیادت میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل عبوری حکومت کے قیام کی جانب تھا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے تیونس کے نئے آئین کی منظوری کا خیرمقدم کیا تھا اور اس کو اصلاحات کے خواہاں دوسرے ممالک کے لیے ایک ماڈل قراردیا تھا۔

تیونس کے عبوری وزیراعظم مہدی جمعہ کی قیادت میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی کابینہ اسی سال نئے آئین اورنئے قوانین کے تحت ملک میں پارلیمانی انتخابات کرائے گی جس کے ساتھ ہی تیونس میں گذشتہ تین سال سے جمہوریت کی مکمل بحالی کے لیے جاری سفر مکمل ہوجائے گا۔