.

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے یورپی مالی امداد

او پی سی ڈبلیو کو یورپی یونین سے قریباً 1کروڑ 60لاکھ ڈالرز کی رقم وصول ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے مالی امداد کے طور پر قریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالرز( ایک کروڑ بیس لاکھ یورو) کی رقم دے دی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے شام کے کیمیائی مواد کو ٹھکانے لگانے کے لیے دسمبرمیں اس مالی امداد کا اعلان کیا تھا۔او پی سی ڈبلیو کو اس مقصد کے لیے ساڑھے تین سے چار کروڑ ڈالرز کی رقم درکار ہوگی۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے گذشتہ ہفتے شام کی منجمد شدہ رقم کو کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے استعمال کرنے سے اتفاق کیا تھا لیکن شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے اس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

یورپی یونین نے شام کے مرکزی بنک اور سرکاری اداروں کے منجمد شدہ فنڈز کو شامی عرب جمہوریہ کی جانب سے اوپی سی ڈبلیو کے کیمیائی ہتھیاروں کی تصدیق کے لیے مشن اور ان کی تلفی کے لیے سرگرمیوں کے ضمن میں استعمال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ شام اپنے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے مقرر کردہ پانچ فروری کی دوسری ڈیڈلائن پر بھی پورا اترنے میں ناکام رہا تھا۔او پی سی ڈبلیو کے مطابق اس تاریخ تک شام کے صرف گیارہ فی صد کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے بیرون ملک منتقل کیا جاسکا ہے۔

امریکا اورروس کے درمیان ستمبر 2013ء میں طے شدہ معاہدے کے تحت شام کے قریباً سات سو ٹن خطرناک ترین کیمیائی ہتھیار 31 دسمبر تک تباہ کرنے کے لیے ملک سے باہر منتقل کیے جانے تھے اور باقی پانچ سو ٹن کم خطرناک ہتھیاروں کو پانچ فروری تک منتقل کیا جانا تھا۔

تاہم روس کے نائب وزیرخارجہ گیناڈی گیٹلوف کے بہ قول شام اسی ماہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی بڑی کھیپ کو بحری جہازوں کے ذریعے بیرون ملک منتقل کردے گا اور یکم مارچ تک یہ تمام کام مکمل ہوجائے گا۔اس کے بعد شام کے بیرون ملک منتقل کیے جانے والے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کو اپریل تک ٹھکانے لگایا جائے گا اور باقی ہتھیاروں کو جون تک تلف کیا جائے گا۔

اوپی سی ڈبلیو نے فرانس اور فن لینڈ کی دو کمپنیوں کو کم خطرناک اور کم ترجیح والے ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے ٹھیکے دیے ہیں جبکہ شام کی بندرگاہ اللاذقیہ سے ڈنمارک اور ناروے کے مال برادر بحری جہازوں کے ذریعے کیمیائی ہتھیاروں کو اٹلی کی بندرگاہ جیویا تورو پر لنگر اندز امریکی بحری جہاز کیپ رے پر منتقل کیا جارہا ہے۔اس پر دو ہائیڈرالسیس سسٹمز مشینیں نصب ہیں۔روس اور نیٹو نے اسی ہفتے بحرقلزم میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے مشن میں استعمال ہونے والے امریکا کے اس بحری جہاز کے تحفظ کے لیے مشترکہ بحری گشت سے اتفاق کیا تھا۔