امریکی فائرنگ سے زخمی بھارتی مچھیروں کا پینٹاگان پرمقدمہ

دبئی کی عدالت میں دائر کیس میں امریکی محکمہ دفاع سے ہرجانہ دلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود میں 2012ء میں امریکی بحری جہاز سے فائرنگ سے زخمی ہونے والے تین بھارتی مچھیروں نے پینٹاگان کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے خلاف جنوری میں دبئی کی ایک سول عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا اور اس کی سوموار کو پہلی سماعت ہوئی ہے۔مچھیروں کے وکلاء نے اسی ہفتے اس کیس سے متعلق تفصیل سے صحافیوں کو آگاہ کیا ہے۔

ابوظہبی میں امریکی سفارت خانے اور دبئی میں بھارتی قونصل خانے نے اس مقدمے سے متعلق فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔وکلاء نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ کیس کے جائزے کے لیے ایک میری ٹائم ایکسپرٹ کا تقرر کرے۔

دبئی سے تعلق رکھنے والی ایک وکیل معصومہ السیق نے کہا ہے کہ ''ہم نے کیس میں ایک ماہر کے تقرر کی درخواست کی ہے تاکہ وہ واقعے کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کرے ۔اس سے ہمیں کیس کو آگے بڑھانے اور پینٹاگان سے ہرجانے کے حصول میں مدد ملے گی۔یہ اس کیس میں پہلا قدم ہے''۔

مچھیروں کے ایک اور وکیل عضئی القزوینی کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے فائرنگ کے واقعہ پر مچھیروں کو ابھی تک معاوضے میں کوئی رقم نہیں دی۔اس کیس کی اگلی سماعت 19 مارچ کو ہوگی۔

امریکی اہلکاروں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک بھارتی مچھیرے مٹھو کنن کا کہنا ہے کہ اسے معدے میں گولی لگی تھی اور اس کی زخمی ٹانگ کو لوہے کے راڈ سے جوڑ دیا گیا ہے۔وہ دبئی میں اپنے کام پر واپس آگیا ہے لیکن اس کے ساتھی دو مچھیرے شدید زخمی ہوگئے تھے اور وہ ابھی بھارت ہی میں بے روزگار ہیں۔

یادرہے کہ جولائی 2012ء میں امریکی بحریہ کے ایک جہاز پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے متحدہ عرب امارات کی ملکیتی ایک کشتی پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ایک بھارتی شہری (مچھیرا) ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔تب ایک امریکی ترجمان نے کہا تھا کہ مچھیروں کی کشتی پر یو ایس این ایس رپاہنوک کے نزدیک آنے کے بعد فائرنگ کی گئی تھی اور اس کے بعد اس کشتی کو تیزی سے وہاں سے دور لے جایا گیا تھا۔

واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدے دار نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''سن 2000ء کے بعد سے ہمیں چھوٹی کشتیوں کے حوالے سے بہت تشویش لاحق ہے''۔اُس سال یمن میں امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس کول پر حملے میں سترہ امریکی سیلرز ہلاک ہوگئے تھے۔

بھارت نے تب متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے تیل بردار امریکی بحری جہاز سے دبئی کے پانیوں میں مچھیروں کی کشتی پر فائرنگ کے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

بحرین میں موجود امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کے ترجمان لیفٹیننٹ گریگ رائلسن نے دعویٰ کیا تھا کہ ''جہاز کے عملے نے آخری حربے کے طور پر چھوٹی موٹر کشتی پر فائرنگ کی تھی''۔انھوں نے کہا کہ یو اے ای کی بندرگاہ جبل علی کے نزدیک کشتی پر فائرنگ سے قبل اس کو انتباہ کیا گیا تھا لیکن اس نے اس کی کوئی پروا نہیں کی تھی لیکن مچھیروں کا کہنا تھا کہ امریکی بحری جہاز سے انھیں کوئی انتباہ نہیں کیا گیا تھا اور اس کے بجائے انھیں گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں