.

بھارتی دوشیزہ نے"پرکشش نسوانیت" کے لیے داڑھی رکھ لی

ھرنام کور کے جسم پر مردوں کی طرح بال بکثرت موجود ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی ایک پیدائشی ابنارمل دوشیزہ نے"دبنگ اور جاذب نظرنسوانیت" کے لیے داڑھی رکھ لی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 23 سالہ باریش ھرنام کور ایک پرائمری اسکول میں ٹیچر ہے۔ وہ پچپن ہی سے "پولیسسٹک" جیسے ایک مرض میں مبتلا ہے، جس کے باعث اس کے جسم کے بیشتر حصوں پر مردوں کی طرح بال اگ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ھرنام کے جسم پر بال اس وقت اگنا شروع ہوئے جب اس کی عمر محض گیارہ برس تھی۔

ھرنام کور کا کہنا ہے کہ پہلے اس کے چہرے پر لڑکوں کی طرح بال اگنا شروع ہوئے۔ اس کے بعد سینے اور بازؤں پر بھی بال نکل آئے۔ اس نے بال صاف کرنے والے مختلف لوشن، کریمیں استعمال کیں اور بلیڈ سے بھی چہرے کے مٹانے کی کوشش کی تاہم وہ اس میں ناکام رہی۔ اسے اسکول فلوز اور محلے کے لوگوں کی جانب سے استہزاء کا نشانہ بنایا جاتا جس پروہ خود سے بہت مایوس بھی ہوئی۔ بعض لوگوں نے تو اسے قتل تک کرنے کی بھی دھمکی دے دی تھی۔

اسے جسم کے بال صاف کرنے میں اس وقت بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے سکھ ہم مذہبوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ چونکہ ان کے مذہب میں جسم کے کسی حصے کے بال کاٹنا جائز نہیں ہے لہٰذا اسے بھی جسم کے بال اپنے حال پر چھوڑ دینے چاہئیں۔ اس کے بعد ھرنام کور نے جسم کے بال چھوڑتے ہوئے قدرت کے اپنی منفرد تخلیق کے فیصلے کو قبول کر لیا۔

اس کا کہنا ہے کہ مجھے لوگوں کی باتوں کی اب کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میں نے "پرکشش نسوانیت" کے لیے داڑھی رکھ لی ہے۔ اب میں اپنے آپ سے نفرت نہیں بلکہ محبت کرتی ہوں۔ رپورٹ کے مطابق اسکول میں ٹیچر بھرتی ہونے کے بعد ھرنام کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ مطمئن دکھائی دیتی ہیں۔