.

چارلس سعودیہ میں 'جیسا دیس، ویسا بھیس' کا مصداق

سعودی عرب کا دورہ کرنے والے برطانوی ولی عہد کی ثقافتی تقریبات میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس اپنے دورہ سعودی عرب کے موقع پر 'جیسا ویس، ویسا بھیس' کا مصداق بن گئے۔ شہزادہ چارلس نے روائتی سعودی لباس زیب تن کر کے اور تلوار تھام کر عملا ایسا کر دکھایا کہ 'اگر آپ سعودی عرب میں تو سعودی شہریوں کی طرح زندگی کرو۔

پینسٹھ سالہ شہزادہ چارلس روائتی عرب ''توپ'' زیب تن کیا جبکہ اپنے سر پر انہوں خم کھاتا ہوا ''غترا'' سجایا اور بڑے سلیقے سے اسے روایتی "کفیہ" سے ڈھانپ رکھا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر شہزادہ چارلس نے ایک مکمل عرب شہری کا روپ دھار لیا اور مہمان نواز عرب دوستوں کے ساتھ گھل مل گئے۔

عربی پہناوا زیب تن کرنے کے بعد شہزادہ چارلس نے روائتی سعودی رقص بھی انجوائے کیا، یہ مرحلہ شوق ایک ثقافتی تقریب کے دوران طے ہوا جو ان کے اعزاز میں ترتیب دی گئی تھی۔ اس تقریب میں تلواریں تھامے عرب شہری تھے، عرب شاعری تھی اور دھول کی تھاپ تھی۔ برطانوی ولی عہد نے بھی اپنے میزبانوں کیساتھ اس روائتی ڈانس 'عرضہ' میں شامل ہونے کی کوشش کی۔

روایت عرضہ رقص کے دوران ایک ایسا مرحلہ بھی آیا کہ شہزادہ چارلس بالکل عربی انداز میں تلوار ہاتھ میں تھام کر اسے ہوا میں لہرانے لگے۔ گویا یہ عرب کلچر سے سرشاری کا اظہار تھا۔

اس سے پہلے بر طانوی ولی عہد کا دورہ شروع ہونے پر برطانوی سفیر نے کہا ''دونوں بادشاہتوں کے درمیان دیرینہ دوستی ہے اس دوستی کا سعودی عرب کی جدید بادشاہت کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ہے، اس لیے ایک دوسرے کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ذاتی تعلقات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔''

سفیر برطانیہ کا کہنا تھا ''شہزادہ چارلس کا میرے دور سفارت کے دوران یہ دوسرا دورہ ہے جو اس امر کا اظہار ہیں کہ ہم اعلی ترین سطح پر تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔''

واضح رہے پیر کے روز سعودی عرب کا دسویں دورے پر آ نے والے برطانوی ولی عہد کیلیے یہ ایک پرکشش اور مرغوب موقع تھا۔ وہ عرب شہزادوں کے ہمراہ روایتی عرب ثقافت کے مظاہر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔