.

زندگی سے تنگ چینی نوجوان نے خود کو چیتوں کے آگے ڈال دیا

موت کے خواہش مند کو خونخوار جانوروں نے 'بخش' دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کبھی کبھی انسان کی مشکلات اور مسائل اتنے گھمبیر ہو جاتے ہیں کہ وہ موت کو گلے لگانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے موت بھی اس سے منہ پھیر لیتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ چین کے 27 سالہ یانگ جین ہائی کا ہے۔ بے روزگاری، نفسیاتی دباؤ اور مایوسی کے باعث اس نے خود کو شنغڈو شہر میں قائم ایک چڑیا گھر کے دو بنگالی چیتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تاکہ وہ اسے چیر پھاڑ کر اپنا پیٹ بھر لیں۔ مگراسے چیتوں کی بے حسی کہیے یا نوجوان کی زندگی کہ بھوکے چیتوں نے بھی اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور نوجوان کی خود کشی کی کوشش بھی رائیگاں گئی۔

مقامی میڈیا کے مطابق خود کو چیتوں کے آگے پھینکنے کا مقصد خود کشی تھا کیونکہ میں مسلسل بے روزگار رہنے کے باعث زندگی سے تنگ آ چکا تھا۔ میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا تھا اس لیے میں نے خود کو چیتوں کے لئے تر نوالہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چڑیا گھر کے ملازموں نے جب ایک نوجوان کو درخت سے کود کر چیتوں کے پنجرے میں چھلانگ لگاتے دیکھا تو وہ فورا اس کی طرف دوڑ پڑے۔ انہوں نے فوری طور پر چیتوں کو نیند کی دوائی دی تاکہ وہ نوجوان پر حملہ نہ کر دیں۔ اس دوران چڑیا گھر کے اہلکاروں نے گر کر زخمی ہوئے نوجوان کو اٹھا کر اسپتال پہنچایا۔ پنجرے میں گرتے ہوئے اسے معمولی زخم آئے ہیں تاہم اسپتال میں اس کی ڈیپریشن کا علاج کیا جا رہا ہے۔