.

تیونسی صدر نے گُستاخِ رسول کی سزا معاف کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے اسلام پسند صدر المنصف المرزوقی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے تیار کرنے والے ایک نوجوان کی سزا معاف کردی ہے۔ تیونسی ایوان صدر کی جانب سے ملزم کی سزا معاف کیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہوا کیا اسے جلد ہی رہا کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ ملزم جابر الماجری سنہ 2012ء کو گستاخانہ خاکے تیار کرنے کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔

صدارتی ترجمان عدنان منصر نے "شمس ایف ایم" ریڈیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت منصف المرزوقی نے گستاخ رسول جابر الماجری کی ایک جرم میں معافی کی درخواست منظور کردی ہے تاہم ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس پر ایک اور الزام بھی عائد کیا گیا ہے، اس لیے اس کی فوری رہائی کا امکان نہیں ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'فیس بک' پر ایوان صدر کے پیج پر جاری ایک مختصر بیان میں بتایا گیا ہے کہ الماجری کو صدر نے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے معاف کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم عالمی فیڈریشن برائے رابطہ کاری کے چیئرمین مختار الطریفی نے گستاخ رسول کی سزا معاف کیے جانے پر مسرت کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ملزم کو کسی دوسرے کیس میں پھنسانے کی بات ہمارے لیے خوفناک ہے۔

خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" سے گفتگو کرتے ہوئے الطریفی کا کہنا تھا کہ "ہمیں بالکل علم نہیں کہ الماجری پر گستاخانہ خاکوں کی تیاری کے علاوہ کوئی اور مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ ہمیں صرف گستاخانہ خاکوں کے الزام کے بارے میں علم تھا اس کے علاوہ کسی اور الزام کی کوئی خبر نہیں سنی گئی"۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے جیل اہلکاروں سے بھی بات کرنے کی کوشش کی مگر جیل کے عملے نےاس حوالے سے کوئی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔

خیال رہے کہ تیونس کے ایک بے روزگار نوجوان کو مارچ 2012ء میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس پر نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ تیار کر کے انہیں انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس الزام پر اسے ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔