.

دو سالہ ناراضی کے بعد موجودہ اور سابق یمنی صدور کے رابطے بحال

صدر منصور ھادی حکمران جماعت کی سربراہی کے مطالبے سے دستبردار؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے موجودہ صدر عبد ربہ منصور ھادی اور سابق مرد آہن فیلڈ مارشل [ریٹائرڈ] علی عبداللہ صالح کے درمیان پایا جانے والا تناؤ اور ناراضی رفتہ رفتہ کم ہونے لگی ہے۔ صدر ھادی نے ملک میں امن واستحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سابق صدر سے مدد لینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے اور اس کے بدلے میں حکمراں جماعت جنرل پیپلز کانگریس کی قیادت کے مطالبے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔

صنعاء حکومت کے ایک ذمہ دار ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ 27 فروری 2012ء کے بعد صدرعبد ربہ منصور ھادی اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے درمیان پہلی مرتبہ رابطہ ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ھادی ملک کو درپیش صورت حال سے نکالنے اور امن وامان کے قیام میں سابق صدر سے مدد لینا چاہتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تعلقات کے دو سالا انقطاع کے بعد دونوں رہ نماؤں کے درمیان خطوط کا تبادلہ ہوا ہے۔ دونوں رہ نماؤں نے سیاسی تناؤ ختم کرنے اور مل کر آگے بڑھنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

پیپلز کانگریس کے ایک سرکردہ ذریعے نے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سابق اور موجودہ صدر کے درمیان رابطوں کے لیے کئی دوسرے سیاسی رہ نما بھی سرگرم ہیں۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطے ہوئے ہیں۔ صدر ھادی نے اپنے رابطہ کاروں کی مدد سے علی صالح کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ پارٹی کی صدارت کے عہدے کے مطالبے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ سابق صدر انہیں ملکی امن واستحکام میں ان کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔

خیال رہے کہ صدر علی عبداللہ صالح کا 33 سالہ دور اقتدار 2012ء کے اوائل میں اختتام پذیر ہو گیا تھا۔ انہیں عوامی بغاوت کے بعد اور خلیجی ممالک کے دباؤ کے بعد اقتدار اپنے نائب عبد ربہ منصور ھادی کو سپرد کرنا پڑا۔ تاہم سابق صدر نے پارٹی قیادت اپنے ہاتھ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ملکی صدارت ہاتھ سے جانے کے بعد علی عبداللہ صالح اپنی پارٹی پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے پارٹی قیادت اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم موجودہ صدر منصوری ھادی اور علی عبداللہ صالح کے درمیان پچھلے دو سال سے پارٹی قیادت کے حوالے سے سخت اختلافات پائے جاتے رہے ہیں۔