.

روسی وزیر خارجہ کا دورہ بغداد، عراق و شام کے بارے تبادلہ خیال

السیسی کے دورہ ماسکو کے بعد دورے کی اہمیت دو چند ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے عراقی حکومت کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کر کے دوطرفہ دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ کا یہ دورہ مصری فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے حالیہ دورہ ماسکو کے حوالے سے کافی اہم ہے۔ کہ روس اس خطے میں اپنی دلچسپی اور اثرات بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

ان تازہ رابطوں میں دوطرفہ تعلقات اور دلچسپی کے باہمی امور کے ساتھ ساتھ شام کی صورتحال بھی ملاقاتوں کے اہم ایجنڈے کے طور پر موجود ہے۔ جہاں باغی اور بشارالاسد رجیم کی وفادار افواج کے درمیان تین سال پر پھیلی خانہ جنگی کی وجہ سے ایک لاکھ چالیس ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ادھر عراق میں بھی اس تنازعے کے اثرات پھیل رہے ہیں اور عراق بد ترین فرقہ واریت کی زد میں ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے اس سے پہلے پچھلے ہفتے کے اختتام پر شام کے معاملات پر مذاکرات میں حصلہ لیا تاہم ان مذاکرات کا فوری نتیجہ نہیں نکلا ہے۔

امریکا روس کو الزام دیتا ہے کہ روس شام پر دباو نہیں ڈال رہا اس لیے شام کو بہتری کی طرف لانے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتا ہے جبکہ روس ان الزام کی تردید کرتا ہے۔

روسی وزیر خارجہ کے دورہ عراق کے دوران روس اور عراق کے درمیان اسلحہ کی خریداری کے معاملے پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔ حالیہ دنوں میں مشرق وسطی اور افریقی عرب ممالک میں اسلحے کے حوالے امریکا پر انحصار نہ کرنے کا رجحان نظر آرہا ہے۔

اس لیے بہت امکان ہے کہ روس اور خطے کے ملکوں کے درمیان آئندہ برسوں کے دوران سفارت، اور تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ دفاعی تعاون کے امور بھی زیادہ مستحکم ہوں گے۔

سرگئی لاوروف نے عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری کے علاوہ دیگر ذمہ دار شخصیات سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔