.

یمن ڈرون حملہ: دلہن سمیت ہلاک باراتیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

امریکا اوباما کی تقریر اور عالمی قوانین کے تحت جائزہ لے، ہیومن رائٹس واچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کے تحفظ کیلیے سرگرم بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ماہ دسمبر میں امریکی ڈرون حملے کی زد میں آکر ہلاک ہونے والے 12 یمنی شہریوں کی ہلاکت کا نوٹس لے لیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے امریکی حکومت سے اس بارے میں تحقیقات کا امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقت کرائی جائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس معاملے میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے کے مطابق اس واقعے نے سنجیدہ تشویش کی صورت حال پیدا کردی ہے اور یہ دیکھنا ضروری ہو گیا ہے کہ آیا یہ واقعہ امریکی صدر اوباما کی طرف سے سامنے لائے گئے سخت قواعد کے منافی ہے۔

واضح رہے اس وقعے میں ایک درجن سے زائد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں دلہن بھی شامل تھی۔ امریکی ڈرون طیاروں نے 4 ہیلفائر میزائل داغے تھے جن کی زد میں 11 گاڑیاں آئی تھیں۔

دوسری جانب امریکی اور یمنی حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ مرنے والوں کا تعلق القاعدہ سے تھا جبکہ عینی شاہدوں اور رشتہ داروں نے ہلاک ہونے والے تمام افراد کے بارے میں کہا ہے کہ وہ سویلین تھے۔

اس بارے میں ایچ آر ڈبلیو کی رپورٹ مرتب کرنے والی لیتا ٹیلر کا کہنا ہے کہ '' تمام یمنی بالعموم جبکہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے خاندان بطور خاص یہ جاننا چاہتے ہیں کہ شادی کی اس بارات کو جنازے میں کیوں تبدیل کیا گیا۔''

انسانی حقوق سے متعلق ادارے نے اوباما انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح صدر اوباما نے پچھلے سال ماہ مئی میں کہا تھا '' کسی بھی سویلین کو ڈرون حملوں کے دوران نشانہ نہیں بنایا جائے گا '' کے حوالے اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں۔