.

یوکرائن: احتجاج روکنے کیلیے فوج کے استعمال پر امریکی انتباہ

اوباما، چک ہیگل اور پینٹاگان کے ترجمان سمیت سبھی نے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرائن میں جاری احتجاج کو روکنے کیلیے مسلح افواج کے استعمال کے امکان کے بارے میں امریکا نے غیر معمولی رد عمل ظاہر کیا ہے۔ فوجی استعمال سے دوطرفہ دفاعی تعلقات متاثر ہونے سے خبردار کر دیا۔

صدر اوباما کے براہ راست خبردار کرنے کے علاوہ امریکی وزیر دفاع نے یوکرائنی وزیر دفاع کو فون کر کے فوج کو مظاہرین سے دور رکھنے کیلیے کہا جبکہ پینٹاگان کے ترجمان نے بھی انتباہی بیان جاری کیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے یوکرائن میں پیدا شدہ صورتحال کے پش نظر خبردار کیا کہ یوکرائینی فوج نے اپوزیشن کا احتجاج کچلنے کیلیے مداخلت کی تو اس کے مضمرات ہوں گے، اس لیے یوکرائنی حکومت اس امر کو یقینی بنائے کہ فوج اس صورتحال میں نہیں کودے گی۔''

امریکی صدر نے مزید کہا ہے کہ ''امریکا سمجھتا ہے کہ یوکرائینی حکومت ہی بنیادی طور پر ذمہ دار ہے کہ وہ مظاہرین سے پرامن انداز میں معاملہ کرے۔''

پینٹاگان کے ترجمان کرنل سٹیو وارن نے بھی اس معاملے میں پینٹاگان کی دلچسپی ظاہر کی ہے اور یوکرائن کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اپنی مسلح افواج کو عوامی احتجاج سے دور رکھے۔

ترجمان کے مطابق ''امریکی وزارت دفاع کی اس امر سے حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ یوکرائن کی مسلح افواج کو بحران سے نمٹنے کیلیے میدان میں نہیں لایا گیا ہے، اس لیے ہم یوکرائینی افواج پر زور دیتے ہیں کہ وہ خود کو اس معاملے سے فاصلے پر ہی رکھے۔''

پینٹاگان کے ترجمان نے یوکرائن میں مظاہرے روکنے کیلیے فوجی استعمال کے ممکنہ مضمرات کی تفصیل تو نہیں بتائی تاہم یہ ضرور کہا ہے کہ اس صورت میں یوکرائن کے ساتھ ہمارے تعلقات پر اثر پڑے گا۔

ترجمان نے بتایا امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے خود بھی فون کیا ہے اور یوکرائنی وزیر دفاع کو امریکا کا یہ انتباہ پہنچایا ہے۔ دریں اثنا نیٹو کے اعلی کمانڈر نے بھی یوکرائنی عوام کیخلاف فوج استعمال نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

اس سے پہلے یوکرائن کی طرف سے کہا جا چکا ہے فوج صرف ہنگامی حالت کے نفاذ کی صورت میں ہی بروئے کار لائی جائے گی ۔ تاہم وزیر دفاع نے ملکی سلامتی کیلیے فوج کے استعمال کا امکان ظاہر کیا تھا۔