.

یوکرین:دارالحکومت کیف میں جھڑپوں میں 67 ہلاکتیں

امریکا کی جانب سے یوکرینی عہدے داروں کے خلاف سخت اقدام کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کے دارالحکومت کیف میں اس ہفتے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد سڑسٹھ ہوگئی ہے جبکہ امریکا نے تشدد کے ان واقعات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

یوکرینی دارالحکومت کی شہری انتظامیہ نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ آج دوپہر تک تشدد کے واقعات میں مرنے والوں کی اڑسٹھ لاشیں فورنزک بیورو کے حوالے کی گئی ہیں۔

دوسری جانب حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے سڑسٹھ افراد تو صرف جمعرات کو پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں اور تشدد کے یہ واقعات حکومت اور حزب اختلاف کے لیڈروں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد پیش آئے ہیں۔

درایں اثناء امریکا نے کیف میں مظاہرین کی ہلاکتوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور یوکرینی صدر وکٹر یانوکووچ پر زوردیا ہے کہ وہ کیف سے مظاہروں کی جگہوں سے سکیورٹی فورسز کو فوراً ہٹائیں اور پرامن مظاہرین کے حق کا احترام کریں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم میں یوکرینی سکیورٹی فورسز کی جانب سے اپنے ہی عوام پر خودکار ہتھیاروں کی فائرنگ کی تصاویر دیکھ کر غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے''۔

گذشتہ روز وائٹ ہاؤس نے یوکرینی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے پرامن مظاہرین کے خلاف متشدد انہ کارروائیوں کا سلسلہ ختم نہ کیا تو اسے پھر نتائج بھتنا پڑیں گے۔امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے یوکرین کے بیس اعلیٰ عہدے داروں کے نام ویزا بلیک لسٹ میں شامل کر لیے ہیں اور مزید پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔