.

ایران، برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور برطانیہ کے درمیان دو سال کے تعطل کے بعد سفارتی تعلقات ایک مرتبہ پھرسے بحال ہوگئے ہیں۔ ایرانی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تہران ۔ لندن سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد دونوں ملک ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھیں گے۔

خیال رہے کہ ایران اور برطانیہ کے درمیان سنہ 2011ء میں سفارتی تعلقات تناؤ کا شکار ہوگئے تھے جس کے بعد برطانیہ نے تہران سے اپنا سفیر واپس بلاتے ہوئے ایرانی سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانجی نے خبر رساں ایجنسی"ایسنا" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور ایران نے جمعرات کے روز سے اپنے اپنے سفارتی مشنوں کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال دونوں ملکوں میں قائم مقام ہائی کمشنرکا تقررعمل میں لایا گیا ہے۔ جلد ہی باضابطہ سفیر تعینات کر دیے جائیں گے۔

ایرانی حکومت کےعہدیدار کا کہنا تھا کہ لندن اور تہران میں ایک دوسرے کے سفارت خانوں پرمتعلقہ ملک کا پرچم لہرا دیا گیا ہے۔

ادھر برطانوی حکومت کی جانب سے "ٹیوٹر" پر جاری ایک بیان میں تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کی تصدیق کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے قائم مقام ہائی کمشنرز نے اپنے فرائض سنبھال لیے ہیں۔ قبل ازیں برطانوی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ان کے پاس لندن میں ایرانی سفارت خانے کے کھولے جانے کے بارے میں کوئی ٹھوس اطلاع نہیں ہے۔

یاد رہے کہ برطانیہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعطل اس وقت پیدا ہوا تھا جب لندن حکومت بھی ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے تسلسل پر ایران کے خلاف عالمی اقتصادی پابندیوں میں شامل ہو گئی۔ برطانوی حکومت کے اس اقدام پر نومبر2011ء کو ایرانی شہریوں نے تہران میں موجود برطانوی سفارت خانے پر حملہ کر دیا تھا جس کے بعد لندن نے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔ اس دوران دونوں ملک سویڈن اور سلطنت آف اومان کے سفارت خانوں کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہے ہیں۔