.

ترکی: خفیہ اداروں کا دائرہ اختیار بڑھانے کیلیے بل پارلیمنٹ میں پیش

ادارے عدالتی منظوری کے بغیر ملک کے اندر اور باہر مشن بھیج سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی حکومت نے ملک کے حساس اور خفیہ ایجنسیوں کے دائرہ اختیار کو بڑھانے کی خاطر پارلیمنٹ میں ایک بل منظوری کیلیے پش کیا ہے۔ اس بل کی منظوری سے سرکاری خفیہ اداروں کا نگرانی کا حق بعض ان شعبوں میں تسلیم کرلیا جائے گا جن میں پہلے نہیں تھا۔

بل کے مطابق انٹیلیجنس سے متعلق قومی ادارے ایم آئی ٹی کو اختیار ہو گا کہ عدالتی منظوری کے بغیر ملک کے اندر اور باہر جاسوسی کے لیے مشن بھیج سکے۔

دنیا کے کئی ممالک میں خفیہ اداروں کو اسی نوعیت کے اختیارات حاصل ہیں تاہم ترکی میں یہ حق عدالتی اجازت سے مشروط تھا۔ اس بل کی منظوری سے حکومت کو رپورٹ کرنے والے خفیہ ادارے ایم آئی ٹی کو تمام دستاویزات تک رسائی مل جائے گی۔

بل کے مطابق یہ دستاویزات نجی امور سے لیکر اجتماعی امور تک اور سرکاری و غیر سرکاری شعبوں سے متعلق ہوں گی۔

اسی طرح صحافی حضرات جو ایم آئی ٹی کی دستاویزات کو شائع کریں گے انہیں بھی قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ صحافی ان دستاویزات کی اشاعت ملکی مفاد میں ثابت نہ کرسکے تو انہیں 12 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔

واضح رہے ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن ان دنوں اس وجہ سے تنقید کا سامنا کر رہے ہیں کہ وہ اپنے اختیارات کو بڑھا رہے ہیں۔ اس سے پہلے حکومت پولیس میں تطہیری عمل بھی شروع کیے ہوئے ہے۔