صومالی ایوان صدر پرخود کش بم حملہ اور فائرنگ،14ہلاک

حملے میں صدر محفوظ رہے،فائرنگ کے تبادلے میں تمام حملہ آور مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں القاعدہ سے وابستہ الشباب جنگجوؤں کے صدارتی محل پر خود کش بم حملے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

صومالی پولیس کے ایک عہدے دار عبدالرحمان محمد نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''حملے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں نو حملہ آور اورپانچ صومالی اہلکار مارے گئے ہیں۔ان میں بعض فوجی بھی ہیں''۔

الشباب کے جنگجوؤں نے موغادیشو میں صدارتی محل پر جمعہ کے روز پہلے خودکش بم حملہ کیا تھا۔اس کے بعد وہ اندر داخل ہوگئے اور انھوں نے فائرنگ شروع کردی۔ اس دوران افریقی امن مشن کے اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا زبردست تبادلہ ہوا جس میں فریقین کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملہ صدارتی محل میں موجود افراد کو قتل کرنے کے لیے کیا گیا تھا جبکہ صومالیہ میں متعین اقوام متحدہ کے نمائندے نے اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے بتایا ہے کہ صدر حسن شیخ محمود ہر طرح سے محفوظ ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کے نمائندے نے اس واقعے کو ایک بڑا حملہ قرار دیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق خود کش حملہ آور بارود سے بھری گاڑی پر سوار ہو کر ایوان صدر سے ٹکرایا اور دھماکے کے بعد بندوق برداروں نے آگے بڑھ کر فائرنگ شروع کر دی۔

ایک عینی شاہد حسین عیسیٰ نے بتایا کہ حملہ آور ایوان صدر کے اندر داخل ہوکر فائرنگ کر رہے تھے۔ تاہم عینی شاہد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کے سبب مزید کچھ دیکھنے سے قاصر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں