.

لیبیا: دستورساز پینل کا انتخاب، ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہی

درنہ میں پانچ پولنگ مراکز میں بم دھماکے، بربروں کا انتخابی عمل کا بائیکاٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں نئے دستور ساز پینل کے انتخاب کے لیے منعقدہ پولنگ میں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم رہی ہے جبکہ ملک کے بعض حصوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔

ساٹھ ارکان پر مشتمل دستور ساز پینل کے انتخاب کے لیے قریباً دس لاکھ افراد نے اپنے ووٹوں کا اندراج کرایا تھا اور ان میں سے صرف چار لاکھ نے جمعرات کو اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔اس طرح ووٹ ڈالنے کی شرح 35 فی صد کے لگ بھگ رہی ہے۔واضح رہے کہ لیبیا میں 2012ء میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے لیے قریباً تیس لاکھ افراد نے اپنے ووٹوں کا اندراج کرایا تھا۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع اور لیبیا کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل سے براہ راست نشر ہونے والی فوٹیج کے مطابق بہت سے علاقوں میں پولنگ مراکز خالی دیکھے گئے تھے۔مشرقی قصبے درنہ میں تو صبح کا آغاز ہی پانچ پولنگ مراکز میں بم دھماکوں سے ہوا۔تاہم ان دھماکوں میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

درنہ میں اسلامی جنگجوؤں کا غلبہ ہے اور انھوں نے وہاں ایک پولنگ مرکز کو زبردستی ہوائی فائرنگ کرکے بند کرا دیا۔ ایک انتخابی افسر نے بتایا کہ مسلح افراد ''ووٹنگ حرام ہے'' اور ''اسلامی شریعت ہی آئین ہے'' کے نعرے لگا رہے تھے۔دو اور مشرقی قصبوں میں بھی بیشتر پولنگ مراکز بند رہے ہیں اور وہاں ووٹ نہیں ڈالے جا سکے۔

دارالحکومت طرابلس اور دوسرے بڑے شہر بن غازی میں دستور ساز پینل کے انتخاب کے لیے پولنگ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور فوج کی بھاری نفری پولنگ مراکز پر تعینات کی تھی جبکہ فضا میں ہیلی کاپٹرز پروازیں کررہے تھے۔

لیبیا کو تین علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔مغرب میں طرابلس ،مشرق میں برقہ اور جنوب میں فزان سے دستور ساز کمیٹی کے ساٹھ ارکان کا مساوی بنیاد پر انتخاب کرنے کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔یہ پینل ایک سو بیس روز یعنی تین ماہ کے مختصر وقت میں ملک کا نیا دستور مرتب کرے گا۔

یادرہے کہ لیبیا میں 1951ء میں آزادی کے بعد اور سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے اقتدار پر قبضے سے قبل دستور کی تیاری کے لیے اسی طرح دستور ساز کمیٹی کا انتخاب کیا گیا تھا۔تب لیبیا میں بادشاہت تھی لیکن اس کمیٹی کا تیار کردہ دستور معمر قذافی کے 1969ء میں اقتدار پر قبضے سے قبل نافذ العمل رہا تھا۔انھوں نے برسراقتدار آنے کے بعد اپنی وضع کردہ ''گرین بُک'' (سبزکتاب) ہی کو ملکی آئین کا درجہ دے رکھا تھا اور وہ اس میں درج قواعد وضوابط کے مطابق ملک کو چلاتے رہے تھے۔

درایں اثناء ملک کے مغرب میں تیل کی تنصیبات کے نزدیک رہنے والے بربروں نے دستور ساز کمیٹی کے انتخاب کا بائیکاٹ کیا ہے۔ان کے لیڈر ابراہیم مخلوف نے اس کمیٹی میں زیادہ نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ نئے دستور میں ان کی زبان کو بھی لیبیا کی سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے۔ماضی میں بربر اپنے مطالبات منوانے کے لیے تیل کی تنصیبات کو بند کرچکے ہیں۔

لیبیا کی منتخب جنرل نیشنل کانگریس (جی این سی) میں سیاسی گروپوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے آئین کی تیاری کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔جی این سی نے اسی ہفتے اس سال نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا ۔اس نے 7 فروری کو اپنی دوسالہ آئینی مدت پوری ہونے کے بعد اس میں توسیع کردی تھی لیکن اس کو حکومت سے زور آور مسلح گروپوں نے تسلیم نہیں ؛کیا تھا اور انھوں نے جی این سی کو زبردستی ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔