.

سعودی ولی عہد کے لیے جاپان کی ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کو جاپان کے سرکاری دورے کے موقع پر ٹوکیو کی ایک نمایاں جامعہ نے بین الاقوامی سطح میں ان کی خدمات کے اعتراف میں قانون میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی ہے۔

شہزادہ سلمان کو ٹوکیو کی وسیڈا یونیورسٹی کی جانب سے ایک تقریب میں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی گئی ہے۔اس موقع پر انھوں نے خطاب کرتے ہوئے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے جاپان اور جاپانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔

وسیڈا یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر کاریو کماٹا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ سلمان کی سیاسی دانش ،علم اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کی تعمیر وترقی میں ان کے کردار کو سراہا۔

انھوں نے کہا کہ ''شہزادہ سلمان کو دنیا کے مختلف علاقوں میں قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی امداد اور بحالی اور غریبوں کی امداد کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں بہت سے تمغے اور ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں دی جاچکی ہیں''۔

اس موقع پر سعودی ولی عہد نے اپنی تقریر میں کہا کہ سعودی عرب مذاکرات اور اعتدال پسندی پر عمل پیرا ہے اور وہ جاپان کے ساتھ اپنے تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔اس نے اسلامی تعلیمات پر مبنی رواداری کی پالیسی اختیار کررکھی ہے،اس کا مقصد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے اور مختلف ادیان اور ثقافتوں کے پیروکاروں کے درمیان مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانا ہے''۔

انھوں نے جاپان کی ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں ترقی کی تعریف کی اور کہا کہ ''ہمارا ملک آپ کے ملک سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کی بدولت ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں اور میں آپ سے یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ ہمارے اور نزدیک آئیں''۔انھوں نے اپنی تقریر میں عالمی سطح پر قیام امن میں سعودی عرب کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔

شہزادہ سلمان نے جمعہ کو قانون کی اعزازی ڈگری وصول پانے کے علاوہ جاپان میں اسلامی مرکز کے قائم مقام چئیرمین ڈاکٹر موسیٰ محمد عمر سے ملاقات کی۔ڈاکٹر عمر کے ہمراہ مسلم مراکز اور تنظیموں کے عہدے داروں کی بڑی تعداد بھی سعودی ولی عہد سے ملاقات کے لیے ان کی قیام گاہ پر آئی تھی۔

انھوں نے جاپان میں اسلامی وقف کے لیے دس لاکھ ڈالرز کا عطیہ دیا ہے اور غلاف کعبہ کا ٹکڑا بھی تحفے کے طور پر دیا ہے۔وہ منگل کو جاپان کے چار روزہ سرکاری دورے پر ٹوکیو آئے تھے۔انھوں نے اس دوران جاپان کے شہنشاہ اکی ہیٹو،وزیراعظم شینزو ایب اور دوسرے عہدے داروں سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔