.

1000 افسروں کا تبادلہ غیر معمولی بات نہیں، ترک وزیر داخلہ

پچھلے سال 15000 پولیس ملازمین کے تبادلے ہوئے، اب کم ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکومت کے وزیر داخلہ نے حال ہی میں ایک ہزار پولیس افسروں کی ذمہ داریاں تبدیل کرنے کو ایک معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس افسروں کی ذمہ داریاں تبدیل ہوتے رہنا ایک معمول ہے۔

وزیر داخلہ افکان اعلی نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران پولیس میں جاری تطہیری عمل کو ایک چھوٹا واقعہ بنا کر پیش کیا ہے۔ واضح رہے پولیس میں یہ تبدیلیاں حکومت کی بعض ذمہ دار شخصیات کے بیٹوں کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع ہونے کے بعد کی گئی ہیں۔

اس سے پہلے پچھلے سال کے دوران 15000 پولیس اہلکاروں کو ایسی تبدیلیوں اور تبادلوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ رواں سال کے دوران صرف 5000 پولیس ملازمین کو اس طرح کی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا 17 دسمبر کے حوالے سے صرف ایک ہزار پولیس اہلکاروں کی ذمہ داریاں تبدیل کی گئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان افسروں کی برطرفی نہیں کی گئی ہے، بلکہ ان افسروں کے محض تبادلے کیے گئے ہیں جو ایک معمول کی کارروائی ہے۔

حکومت کے حامیوں کو آئندہ ماہ مارچ کے دوران ملک میں بلدیاتی انتخابات میں ایک ایسے وقت میں اترنا جب حکومت کو کرپشن سکینڈل کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کے 11 سالہ دور اقتدار میں مشکل ترین مرحلہ ہے۔