.

پرامن تبدیلی میں مزاحم یمنی قوتوں کیخلاف عالمی پابندیوں پر غور

سابق صدرعلی صالح اور موجودہ نائب صدر ہدف بن سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن میں پرامن انتقال اقتدار کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی قوتوں اور انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب گروپوں اور شخصیات پر پابندیاں لگانے پر غور شروع کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل میں یمن سے متعلق قرارداد برطانیہ کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ میں پرامن سیاسی تبدیلی کی راہ میں حائل ہونے یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کے بیرون ملک سفر پر پابندی اور ان کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔

برطانوی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل یمن میں انتقال اقتدار کو یقینی بنانے اور اس راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔ یہ کمیٹی ایسے عناصر اور گروپوں کی فہرست تیار کرے تاکہ اس کی روشنی میں انہیں بلیک لسٹ کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ سلامتی کونسل نے اپنے ایک حالیہ اجلاس میں یمن میں پرامن سیاسی تبدیلی کے حوالے سے بعض رہ نماؤں کی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ایسی تشویشناک رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ سابق صدرعلی عبداللہ صالح اور نائب صدر علی سالم البیض پرامن سیاسی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو عالمی ادارے کی قرارداد میں سابق صدر اور موجودہ نائب صدر بھی بلیک لسٹ قرار دیے جا سکتے ہیں۔

سلامتی کونسل میں یمن کے مستقل مندوب جمال بن عمر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح اور ان کے مقربین، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مفاہمتی بات چیت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ برطانوی قرارداد کے مسودے میں علی عبداللہ صالح کی جمہوریت مخالف سازشوں کا بھی ذکر شامل ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صنعاء میں سیاسی عمل میں حائل ہونے والےسابق صدر علی صالح کا باب بند کیا جائے۔

سلامتی کونسل کے سفارتی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ یمن کے حوالے سے ادارہ کوئی بھی سخت فیصلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یمن کی ایسی شخصیات اور جماعتوں کو سلامتی کونسل کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو ملک میں پرامن سیاسی تبدیلی کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔