.

سابق یوکرینی صدر قتل عام کے الزامات میں مطلوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرین کے روس نواز بھگوڑے صدر وکٹر یانوکووچ پُرتشدد عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار میں آنے والی نئی حکومت کو مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں مطلوب ہیں۔

یانوکووچ کے خلاف دارالحکومت کیف میں احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز نے بیسیوں افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔یوکرین کے عبوری وزیرداخلہ آرسن آواکوف نے اپنے فیس بُک صفحے پر سوموار کو لکھا ہے کہ ''پُرامن شہریوں کے قتل عام کے کیس کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور یانوکووچ اور شہریوں کی ہلاکتوں کے ذمے دار دوسرے سابق حکام کو مفرور قراردے دیا گیا ہے اور وہ حکومت کو مطلوب ہیں''۔

درایں اثناء یوکرین کے ایک ٹیلی ویژن چینل نے صدارتی محل سے وکٹر یانوکووچ کے فرار کی ویڈیو فوٹیج جاری کی ہے۔یہ سابق صدر کے خلاف تحریک میں پیش پیش کارکنان کے بیانات پر مبنی ہے اور اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔ان عینی شاہدین نے جمعہ کی رات مظہریہریہ صدارتی محل سے چوالیس مرتبہ ہیلی کاپٹروں کو اڑان بھرتے ہوئے دیکھا تھا۔

ہفتے کے روز صدارتی محل پر پہرا دینے والے سکیورٹی اہلکار غائب ہوگئے تھے جس کے بعد مظاہرین ،صحافی حضرات اور حکومت مخالفین محل میں داخل ہوگئے تھے۔یانوکووچ پرتعیش زندگی گزار رہے تھے۔ان کے محل میں گالف کورس ،چڑیا گھر ،پرائیویٹ پیٹرول اسٹیشن اور کاروں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

یانوکووچ کے صدارتی محل سے فرار سے قبل ان کے قریبی دوستوں کی بڑی تعداد بھی بھاگ گئی تھی۔البتہ پراسیکیوٹر جنرل وکٹر شونکا اور ٹیکس چیف اولکسندر کلیمنکو کو دونتسک کے ہوائی اڈے سے بیرون ملک روانہ نہیں ہونے دیا گیا۔یہ دونوں سابق عہدے دار یانو کووچ کے قریبی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔تاہم ان دونوں کے محافظوں نے ہفتے کے روز سرحدی محافظوں پر فائرنگ کردی تھی جس کے بعد وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

یوکرین میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران خونیں واقعات کے بعد اب اس ملک کے مستقبل کے حوالے سے مختلف شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ ماضی میں سابق سوویت یونین میں شامل رہنے والا یہ ملک اب روسی اور یوکرینی زبانوں کی بنیاد پر دو حصوں میں بٹ سکتا ہے کیونکہ مفرور صدر خود تو روس نواز تھے لیکن ان کے خلاف تحریک چلانے والے حزب اختلاف کے کارکنان اور لیڈر مغرب نواز ہیں۔

تاہم فرانس ،امریکا ،جرمنی اور یورپی یونین نے یوکرین کے علاقائی استحکام کی ضرورت پر دیا ہے اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن آج سوموار کو کیف پہنچنے والی تھیں۔وہ یوکرین کی نئی قیادت سے تازہ سیاسی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گی۔