.

ابوظہبی پولیس کے افسروں پر قحبہ گری کے الزام میں مقدمہ

ایک پولیس افسر پر گرفتار خواتین کو 86 سو ڈالرز میں بیچنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ابو ظہبی پولیس کے تین افسروں پر ویزے کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار عورتوں کو بیچنے کے الزام میں مقدمے سماعت شروع ہوگئی ہے اور وہ تینوں ہفتے کے روز ایک عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

ابوظہبی کے ایک اخبار''سات یوم'' میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق ان تین پولیس افسروں کے خلاف رشوت وصول کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ان میں سے ایک پولیس افسر نے مبینہ طور پر گرفتار خواتین کی اسمگلنگ کے لیے آٹھ ہزار چھے سو ڈالرز وصول کیے تھے۔دوسرے پولیس افسر اور ایک خاتون پولیس افسر پر شواہد کو چھپانے کے لیے کاغذات میں جعل سازی کا الزام ہے۔

اس کیس میں کل آٹھ افراد کے خلاف تحقیقات کی گئی ہے۔محکمہ عدل کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ''کرپشن تو ہرملک میں ہوتی ہے،ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم اس معاملے سے شفاف ،دیانتدارانہ اور کھلے انداز میں نمٹیں گے۔ابوظہبی پولیس نے کرپشن کے معاملے میں سخت اور غیر لچکدار رویہ ظاہر کیا ہے''۔

مذکورہ اخبار کے مطابق ان میں سے ایک مشتبہ پولیس افسر نے ایک شاہراہ پر خواتین کو روکا تھا،ان سے کاغذات طلب کیے تھے اور ویزے کی مدت ختم ہوجانے کے باوجود زائد المیعاد قیام کرنے والی خواتین کو گرفتار کرکے الشہامہ پولیس اسٹیشن پر لے گئے۔پھر انھوں نے متعلقہ سرکاری کاغذات پر کوئی خانہ پری کیے بغیر ہی ان سے پوچھ تاچھ کرتے رہے اور انھیں ایک بنگلہ دیشی دلال کے ہاتھ بیچ دیا۔

اس کیس میں پولیس افسروں کے علاوہ تین بنگلہ دیشی اور ایک انڈونیشی عورت کو بھی ابوظہبی کی فوجداری عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ان مشتبہ چاروں عورتوں نے کیس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے جبکہ بنگلہ دیشی عورتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تحقیقات کے دوران اینٹی کرپشن کے پولیس افسروں نے ان پر جنسی حملے کیے تھے۔