.

لیبیا:سات مصری مسیحی بن غازی میں قتل

کسی گروپ نے مصریوں کو قتل کرنے کی ذمے داری قبول نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں سات مصری مسیحیوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔انھیں سروں میں گولیاں مار قتل کیا گیا تھا۔

لیبیا کے سکیورٹی حکام اور مقامی لوگوں نے سوموار کو بن غازی میں ساحل سمندر سے ان مصریوں کی لاشیں ملنے کی اطلاع دی ہے۔العربیہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ یہ مصری دوروز قبل لاپتا ہوگئے تھے۔ان مصریوں کو ممکنہ طور پر کسی جنگجو گروپ نے اغوا کرکے قتل کیا ہے۔

ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ انھیں سزا دینے کے انداز میں قتل کیا گیا تھا اور سروں میں گولی ماری گئی تھیں لیکن ہم اس بات سے آگاہ نہیں ہیں کہ انھیں کس نے قتل کیا ہے۔

ایک مقامی شہری اور ایک مصری ورکر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد ایک رات قبل بن غازی میں مصریوں کے گھر میں آئے تھے اور انھیں اغوا کرکے ساتھ لے گئے تھے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان مصریوں کے قتل کی ذمے داری قبول نہیں کی۔گذشتہ ماہ دارالحکومت طرابلس سے ایک سو کلومیٹر مغرب میں واقع ساحلی علاقے میں ایک برطانوی مرد اور نیوزی لینڈ کی ایک عورت کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

واضح رہے کہ بن غازی میں 2011ء میں سابق صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بد امنی اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور اغوا برائے تاوان یا لوگوں کو اغوا کے بعد قتل کرنے کی وارداتیں عام ہیں جبکہ لیبیا کی مرکزی حکومت ان جنگجوؤں پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔