.

جنسی اسکینڈل میں ملوث ناروے میں متعین اسرائیلی سفیر کی وطن طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ناروے میں متعین اسرائیلی سفیر نعیم عرائیدے کو اپنی ماتحت خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں واپس وطن بلا لیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ناروے میڈیا ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ "اسرائیلی سفیر کو اپنے دفتر کی خواتین اہلکاروں کے ساتھ نا مناسب رویے اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کا سامنا تھا، جس کے بعد اسے واپس بلا لیا گیا ہے۔

اسرائیلی اخبار"یدیعوت احرونوت" نے بھی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایک یورپی ملک میں متعین اسرائیلی سفیر کو خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں واپس بلایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق درز یہودی قبیلے سے تعلق رکھنے والے شاعرانہ مزاج سفیر کی جانب سےالزامات کی ترید بھی سامنے آئی ہے تاہم اسے تحقیقات کے لیے تل ابیب بلا لیا گیا ہے۔

عبرانی اخبار نے اسرائیلی سفیر کا نام صیغہ راز میں رکھا تھا تاہم بعد ازاں دوسرے ذرائع نے نام ظاہر کر دیا۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی سفیر پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی خبروں کے بعد تل ابیب وزارت خارجہ کی جانب سے اوسلو حکام سے ملاقات اور مسئلے پر بات چیت کے لیے ایک ماہر قانون کو بھی بھیجا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں سفیر کو واپس بلا لیا گیا ہے۔

سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹری جورج ڈیک سے جب اس سلسلے میں بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ فی الحال وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزارت خارجہ کے نوٹس پر سفیر کی واپسی پر کوئی بات کرنے سے بھی معذرت کی۔

ادھر ناروے وزارتِ خارجہ نے بھی اسرائیلی سفیر کے اسکینڈل کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم اوسلو کا کہنا ہے کہ ان دنوں اسرائیل کے قائم مقام سفیر نمائندگی کر رہے ہیں۔