لندن فلیٹ کے ہفتہ وار کرایے سے قاہرہ میں مکان خرید لیں!

ایک فلیٹ کے سالانہ کرائے سے 700 خاندانوں کی کفالت مُمکن ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ میں سیاحت کے تیزی سےفروغ سے ملک میں رئیل اسٹیٹ مالکان کی چاندی ہو گئی ہے۔ درالحکومت لندن اس اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل شہر ہونے کے ساتھ ساتھ یورپ کا مہنگا ترین شہری بنتا جا رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ لندن میں ایک درمیانے درجے کے فلیٹ کے ایک ہفتے کے کرائے سے آپ مصر کے صدر مقام قاہرہ میں ایک مکان تعمیر یا خرید سکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لندن میں پانچ بیڈ روم، ایک ڈرائینگ روم، ایک کچن چھ واش رومز پر مشتمل ایک درمیانہ فلیٹ کرائے پر لینا ہو تو اس کا ایک ہفتے کا کرایہ 45 ہزار آسٹریلوی پاؤنڈ یعنی 75 ہزار امریکی ڈالر بنتا ہے جبکہ یہی رقم اگر مصری پاؤنڈ میں تبدیل کی جائے تو پانچ لاکھ 75 ہزار پاؤنڈ بنتی ہے، جس سے آپ قاہرہ میں ایک بنا بنایا گھر خرید کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حال ہی میں قاہرہ میں مکانات کی خریدو فروخت سے متعلق ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ اس نمائش میں مختلف سائز کے تعمیر شدہ مکانات کے نقشے دکھائے گئے۔ "نیو قاہرہ سٹی" میں 200 مربع میٹر پر تعمیر شدہ مکان 06 لاکھ 66 ہزار پاؤنڈ میں برائے فروخت تھا۔ اس کے علاوہ "الدقی "کالونی میں 105 مربع میٹر پر محیط مکان کی قیمت پانچ لاکھ پاؤنڈ جبکہ دو بیڈ رومز پر مشتمل 125 مربع میٹر میں بنا مکان پانچ لاکھ 30 ہزار مصری پاؤنڈ میں فروخت کیا جا رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق لندن میں رئیل اسٹیٹ کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے باعث اسے یورپ کا مہنگا ترین شہر سمجھا جاتا ہے۔ لندن میں ایک فلیٹ کا ایک سال کا کرایہ 24 لاکھ 30 ہزار آسٹریلوی پاؤنڈ یعنی چار ملین امریکی ڈالر بنتا ہے۔ اس خطیر رقم سے 700 متاثرہ خاندانوں کو ہر ماہ 475 ڈالر ادا کر کے ان کی کفالت کی جا سکتی ہے۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ شام میں خانہ جنگی کے نتیجے میں بیرون ملک ھجرت کرنے والے کل خاندانوں کی تعداد 700 سے بھی کم ہے۔ ایک خاندان کی ماہانہ کفالت پر آنے والے اخراجات کی رقم سے مصر کے دارالحکومت میں ایک بنا بنایا گھر خریدا جا سکتا ہے۔

لندن "نائٹس بریج" کالونی میں ایک پرانی عمارت نہ صرف برطانیہ کی مہنگی ترین بلڈنگ سمجھی جاتی ہے بلکہ وہ پورے یورپ میں سب سے مہنگی ہے۔ ہائیڈ پارک ہوٹل کے قریب وقع کوٹھی نمبر 100 ایک تاریخی یادگار سمجھی جاتی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں 1917ء میں برطانوی اور فرانسیسی حکام نے شام اور دوسرے عرب ملکوں کی بندر بانٹ کے حوالے سے "سائیکس پیکو" معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے قریب واقع ہار ولڈز اسٹور، چار مشہور پنج ستارہ ہوٹل اور دیگر نہایت گراں قیمت فلیٹس موجود ہیں۔ یہ عمارت صرف برطانیہ کی نہیں بلکہ پورے یورپ کی مہنگی ترین سمجھی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں