.

برطانیہ:گوانتاناموبے کےسابق قیدی سمیت 4 مشتبہ افراد گرفتار

شام میں لڑائی میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی اور تربیتی کیمپ میں شرکت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں گوانتا ناموبے کے ایک سابق قیدی اور ایک عورت سمیت چار افراد کو شام میں لڑائی میں شرکت کے لیے منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ویسٹ مڈل لینڈ پولیس کا کہنا ہے کہ ان چاروں کو برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم کے جنوب مغربی حصے سے ان کے گھروں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک پینتالیس سالہ شخص کو دہشت گردی کے ایک کیمپ میں شرکت اور بیرون ملک دہشت گردی میں معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

برطانو پولیس نے بعد میں اس شخص کی شناخت ظاہر کردی ہے اور وہ امریکا کے بدنام زمانہ حراستی مرکز گوانتاناموبے کے سابق قیدی معظم بیگ ہیں۔انھیں 2005ء میں اس عقوبت خانے سے رہا کیا گیا تھا اور آج کل وہ انسانی حقوق کے علمبردار بنے ہوئے ہیں اور خاص طور پر زیرحراست قیدیوں کے حقوق کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔

ان کے ساتھ ایک چوالیس سالہ عورت اور اس کے بیس سالہ بیٹے اور ایک چھتیس سالہ شخص کو بھی انہی الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ویسٹ مڈل لینڈز پولیس کے انسداد دہشت گردی یونٹ نے ان افراد کو پکڑنے کے لیے تین گھروں پر چھاپے مارے ہیں اور وہاں سے گاڑیاں اور الیکٹرانک آلات بھی فورنزک تجزیے کے لیے قبضے میں لے لیے ہیں۔

پولیس کی خاتون ترجمان نے معظم بیگ کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ عوامی مفاد میں ان کے نام کا افشاء کیا جارہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ''یہ محض گرفتاری ہے،الزام نہیں اور نام ظاہر کرنے سے قصور ثابت نہیں ہوجاتا''۔معظم بیگ اور گرفتار دوسرے تین افراد برمنگھم کے ایک پولیس اسٹیشن میں زیرحراست ہیں اور ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ سے مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری مزاحمتی جنگ میں حصہ لینے کے لیے آرہی ہے جس پر برطانوی حکام کو گہری تشویش لاحق ہے اور حال ہی میں شام سے برطانیہ لوٹنے والے قریباً ڈھائی سو افراد کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔

برطانوی پولیس افسروں کی تنظیم کے سربراہ پیٹر فاہی نے گذشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذ آراء باغیوں کی مدد کو جانے والے برطانوی شہریوں کو وطن واپسی پر گرفتار کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ملک کے لیے سکیورٹی خطرے کا موجب ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے برطانوی شہریوں کے شام میں جہاد کے لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔لیکن ان کے اس انتباہ اور تشویش کے باوجود برطانوی مسلم نوجوان شام کا رخ کررہے ہِیں اور وہ وہاں القاعدہ سے وابستہ تنظیموں یا دوسرے جنگجو گروپوں میں شامل ہوکر شامی فوج کے خلاف برسر جنگ ہیں۔

انہی میں سے ایک اکتالیس سالہ عبدالوحید مجید نے شام کے شمالی شہر حلب کی سنٹرل جیل پر گذشتہ ماہ خودکش بم حملہ کیا تھا جس کے بعد وہاں سے سیکڑوں قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

شامی فوج کے خلاف محاذ آراء القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ نے اپنے اس خودکش بمبار کی شناخت سلیمان البرطانی کے نام سے کی تھی۔اس نے بارود سے بھرے ٹرک کو حلب کی سنٹرل جیل کے بیرونی دیوار کے نزدیک لاکر دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے بعد دوسرے جنگجوؤں نے جیل پر دھاوا بول دیا تھا اور وہاں سے سیکڑوں قیدیوں کو چھڑوا لیا تھا۔

اس پاکستانی نژاد کی فدائی حملے میں موت سے پہلے شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف جنگ میں لڑتے ہوئے سات برطانوی شہری مارے جاچکے ہیں۔برطانوی پولیس نے گذشتہ ماہ سسیکس کاؤنٹی میں واقع قصبے کرالے میں ان کے مکان پر چھاپہ مارا تھا جہاں وہ اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ مقیم تھے۔