.

سعودی ولی عہد کی تین روزہ تاریخی دورے پر بھارت آمد

دورے میں دوطرفہ تعاون سے متعلق سمجھوتوں پر دستخط کیے جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز بھارت کے تین روزہ سرکاری دورے پر بدھ کو نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔

شہزادہ سلمان نے اپنی آمد پر نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے وضع کردہ فریم ورک کے تحت یہ دورہ کررہے ہیں اور اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ سلمان نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد بھارت اور سعودی مملکت کے درمیان مشترکہ اہمیت کے حامل علاقائی اور عالمی امور پر روابط کو بڑھانا اور مضبوط بنانا ہے۔

نئی دہلی آمد پر بھارت کے نائب صدر حامد انصاری نے ان کا استقبال کیا۔وہ بھارتی صدر پرنب مکھر جی اور وزیراعظم من موہن سنگھ سے بھی ملاقات کریں گے۔2006ء میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے بعد مملکت کے کسی اعلیٰ عہدے دار کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے۔

بھارتی میڈیا کی اطلاع کے مطابق دورے میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے مختلف سمجھوتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔بھارت میں سعودی سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار کے بہت سے مواقع موجود ہیں اور سعودی عرب بھارت کو ایک اہم کاروباری شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔

اس وقت قریباً اٹھائیس لاکھ اسی ہزار بھارتی شہری سعودی عرب میں مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں اور وہ سعودی مملکت میں غیرملکی تارکین وطن کی سب سے بڑی کمیونٹی ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان 13-2012ء میں دوطرفہ تجارت کا حجم 43 ارب ڈالرز رہا تھا۔